آسٹریلیا میں چور گاندھی کا مجسمہ لے اُڑے، پاؤں چھوڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
میلبرن کے آؤسٹریلین انڈین کمیونٹی سینٹر سے مہاتما گاندھی کی 420 کلوگرام وزنی کانسی کی مورت چوری ہو گئی۔ یہ مجسمہ بھارتی ثقافتی ادارے ICCR کی طرف سے دیا گیا تھا اور آسٹریلیا میں بھارتی کمیونٹی کے لیے اہم تاریخی اور ثقافتی اہمیت رکھتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:گاندھی کی وراثت مٹانے کا الزام، آر ایس ایس اور بی جے پی تنقید کی زد میں
آسٹریلیا کے میلبرن میں واقع آؤسٹریلین انڈین کمیونٹی سینٹر کے باہر سے مہاتما گاندھی کا یہ کانسی کا مجسمہ چوری کر لیا گیا۔ مجسمہ ICCR، نئی دہلی کی طرف سے تحفے کے طور پر دیا گیا تھا اور بھارتی کمیونٹی کے لیے اس کی تاریخی، ثقافتی اور علامتی اہمیت تھی۔
Mahatma Gandhi Statue Stolen from Indian Community Centre in Melbourne
– A bronze statue of Mahatma Gandhi was stolen from the Australian Indian Community Centre in Rowville, Melbourne.
– The statue was a gift from the Indian Council for Cultural Relations (ICCR), New Delhi. pic.twitter.com/oXZREwNvF5
— Ritam English (@english_ritam) February 3, 2026
پولیس کے مطابق یہ چوری پیر کی رات تقریباً 12:50 بجے ہوئی، جب تین نامعلوم ملزمان نے اینگل گرائنڈر کا استعمال کرتے ہوئے 426 کلوگرام وزنی مجسمے کو بنیاد سے کاٹ دیا۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں مجسمے کے صرف پاؤں باقی دکھائی دیتے ہیں۔
ویکٹوریہ پولیس کے نکس کرائم انویسٹیگیشن یونٹ کے افسران اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور مقامی اسکریپ میٹل فروشوں کو متنبہ کیا ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دی جائے۔
آسٹریلین انڈین کمیونٹی چیریٹیبل ٹرسٹ کے کمیٹی رکن سنتوش کمار کے مطابق یہ واقعہ جزوی طور پر عمارت کے CCTV میں نظر آیا اور اگلے دن رپورٹ کیا گیا۔
یہ مجسمہ 12 نومبر 2021 کو سابق آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے افتتاح کیا تھا۔
پولیس اور کمیونٹی رہنماؤں نے اس چوری کو بڑھتے ہوئے بھارت مخالف جذبات سے جوڑا ہے، جو خاص طور پر خالصتان سے منسلک انتہا پسندوں کی جانب سے بھارتی سفارتی مشنز اور کمیونٹی مراکز پر حملوں کے بعد دیکھنے میں آ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا خالصتان گاندھی کا مجسمہ مہاتما گاندھی میلبرن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا خالصتان گاندھی کا مجسمہ مہاتما گاندھی میلبرن
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے