مودی نے امریکی دباؤ کے آگے جھک کر کسانوں کی محنت بیچ دی، راہول گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
کانگریس رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے بھارت اور امریکا کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امریکی دباؤ کے آگے جھک کر بھارتی کسانوں کی محنت کا سودا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہریانہ انتخابات: برازیلی ماڈل کے متعدد ووٹس، راہول گاندھی نے مودی حکومت کی دھاندلی کا پردہ فاش کردیا
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ایک ایسا تجارتی معاہدہ جو گزشتہ 4 ماہ سے التوا کا شکار تھا وہ اچانک ایک ہی رات میں کیسے طے پا گیا؟ ان کے مطابق وزیرِ اعظم مودی پر شدید دباؤ تھا جس کے نتیجے میں یہ معاہدہ حتمی شکل دی گئی۔
راہول گاندھی نے یہ گفتگو اس وقت کی جب انہیں لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر بحث کے دوران بولنے کی اجازت نہیں دی گئی حالانکہ وہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) ایم ایم نرواںے کی غیر شائع شدہ یادداشت کا حوالہ دینا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ قائد حزب اختلاف کو صدر کے خطاب پر بات کرنے سے روک دیا گیا۔
PM Modi is Compromised.
PM is too afraid to let me speak in Parliament about Naravane, Epstein Files and how he has surrendered on Tariffs. pic.twitter.com/V1J6yxZDM2
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) February 3, 2026
لوک سبھا میں مسلسل دوسرے روز بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ اپوزیشن ارکان کے احتجاج کے باعث ایوان کی کارروائی متاثر ہوئی جبکہ بعض ارکان کی جانب سے اسپیکر کی کرسی کی طرف کاغذات پھینکے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
مزید پڑھیے: ’مودی ٹرمپ اور امریکا سے خوفزدہ ہیں ‘، راہول گاندھی کی بھارتی وزیرِاعظم پر تنقید
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فونک رابطے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اعلان کیا کہ امریکا نے بھارت پر عائد باہمی ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا ہے جبکہ بھارت نے بھی بعض امریکی مصنوعات پر محصولات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
بعد ازاں وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کے ایک اشارے پر مودی نے سرینڈر کردیا، راہول گاندھی کے بھارتی وزیر اعظم کو طعنے
راہول گاندھی نے دباؤ کی نوعیت پر بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکی عدالتوں میں صنعتکار گوتم اڈانی کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہیں اور ایپسٹین فائلز میں مزید انکشافات متوقع ہیں جو بھارتی حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی کسان تجارتی ٹیرف راہول گاندھی صدر ٹرمپ نریندر مودی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی کسان تجارتی ٹیرف راہول گاندھی راہول گاندھی نے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر