کانگریس رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے بھارت اور امریکا کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امریکی دباؤ کے آگے جھک کر بھارتی کسانوں کی محنت کا سودا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہریانہ انتخابات: برازیلی ماڈل کے متعدد ووٹس، راہول گاندھی نے مودی حکومت کی دھاندلی کا پردہ فاش کردیا

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ایک ایسا تجارتی معاہدہ جو گزشتہ 4 ماہ سے التوا کا شکار تھا وہ اچانک ایک ہی رات میں کیسے طے پا گیا؟ ان کے مطابق وزیرِ اعظم مودی پر شدید دباؤ تھا جس کے نتیجے میں یہ معاہدہ حتمی شکل دی گئی۔

راہول گاندھی نے یہ گفتگو اس وقت کی جب انہیں لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر بحث کے دوران بولنے کی اجازت نہیں دی گئی حالانکہ وہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) ایم ایم نرواںے کی غیر شائع شدہ یادداشت کا حوالہ دینا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ قائد حزب اختلاف کو صدر کے خطاب پر بات کرنے سے روک دیا گیا۔

PM Modi is Compromised.

PM is too afraid to let me speak in Parliament about Naravane, Epstein Files and how he has surrendered on Tariffs. pic.twitter.com/V1J6yxZDM2

— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) February 3, 2026

لوک سبھا میں مسلسل دوسرے روز بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ اپوزیشن ارکان کے احتجاج کے باعث ایوان کی کارروائی متاثر ہوئی جبکہ بعض ارکان کی جانب سے اسپیکر کی کرسی کی طرف کاغذات پھینکے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

مزید پڑھیے: ’مودی ٹرمپ اور امریکا سے خوفزدہ ہیں ‘، راہول گاندھی کی بھارتی وزیرِاعظم پر تنقید

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فونک رابطے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اعلان کیا کہ امریکا نے بھارت پر عائد باہمی ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا ہے جبکہ بھارت نے بھی بعض امریکی مصنوعات پر محصولات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

بعد ازاں وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے ایک اشارے پر مودی نے سرینڈر کردیا، راہول گاندھی کے بھارتی وزیر اعظم کو طعنے

راہول گاندھی نے دباؤ کی نوعیت پر بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکی عدالتوں میں صنعتکار گوتم اڈانی کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہیں اور ایپسٹین فائلز میں مزید انکشافات متوقع ہیں جو بھارتی حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی کسان تجارتی ٹیرف راہول گاندھی صدر ٹرمپ نریندر مودی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی کسان تجارتی ٹیرف راہول گاندھی راہول گاندھی نے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت