امریکی ہتھیار دہشتگردوں کے ہاتھوں میں جا کر قیمتی معدنیات تک رسائی میں بڑی رکاوٹ بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان کے شمال مغربی خطے میں واقع حسین مگر خطرناک ہندوکش پہاڑوں میں امریکی دلچسپی کی قیمتی معدنیات چھپی ہیں، لیکن طالبان اور دیگر شدت پسند امریکی ہتھیاروں سے لیس ہو کر اس دولت تک پہنچنے کی کوششیں روک رہے ہیں۔ یہ خطہ جس میں محمد خیل اور ریکو ڈیک کی کانیں شامل ہیں، اربوں ڈالر کی معدنی دولت فراہم کر سکتا ہے، تاہم مقامی جنگجو اسے خونریز جنگ کی شکل میں مشکل بنا رہے ہیں۔
پاکستان کی معدنی دولت اور امریکی دلچسپیپاکستان کے محمد خیل تانبے کی کان سے گزشتہ سال 22,000 ٹن تانبا نکالا گیا، جس کی مالیت لاکھوں ڈالر ہے، اور یہ سب چین کو بھیج دیا گیا۔ پڑوسی صوبے میں ایک اور کان ہے جو تقریباً 10 گنا زیادہ پیداوار دے سکتی ہے، جو امریکا کے سالانہ تانبا استعمال کا پانچواں حصہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معدنیات کی خریداری کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا ہے اور اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فتنہ الخوارج امریکی ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے، امریکی جریدے کا انکشاف
پاکستان کے دعوے کے مطابق اس کی زمین میں تقریباً 8 ٹریلین ڈالر کے تانبا، لیتھیم، کوبالٹ، سونا، اینٹیمونی اور دیگر قیمتی معدنیات موجود ہیں، جو عالمی سطح پر امریکہ کے لیے انتہائی پرکشش ہیں۔
شدت پسند اور امریکی ہتھیارتاہم یہ دولت ان علاقوں میں چھپی ہے جو دہائیوں سے مسلح بغاوتوں کی لپیٹ میں ہیں، اور 2021 میں امریکی انخلا کے بعد وہاں چھوٹے اور بڑے ہتھیار آسانی سے دستیاب ہو گئے ہیں۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق وہاں سینکڑوں امریکی ہتھیار جیسے M-16، M-4، M249 اور ریمنگٹن سنائپر رائفلز شدت پسندوں کے قبضے میں ہیں۔
ایک پاکستانی کرنل نے وانا کے قریب واقع ایک حملے کے بعد خون سے لتھڑا بینڈانہ اور تین M-16 رائفلز دکھائیں، جن پر واضح طور پر درج تھا:
Property of US Govt.
امریکی ہتھیار اب شدت پسندوں کو طاقتور بنا رہے ہیں اور معدنیات کے حصول کی کوششوں کو پیچیدہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان سے جدید امریکی ہتھیار پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
پاکستانی فوج کے مطابق 2025 میں شدت پسند حملوں میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جو 2021 کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ پاکستانی فوج اب سرحدی علاقوں میں جنگ لڑ رہی ہے، جبکہ امریکی ہتھیار افغانستان سے پاکستان اور بلوچستان میں شدت پسندوں کے ہاتھ پہنچے ہیں۔
ریکو ڈیک اور معدنیات کی کانیںدسمبر میں امریکی سفارت کار نے اعلان کیا کہ US EXIM بینک نے ریکو ڈیک میں قیمتی معدنیات کی کان کنی کے لیے 1.25 ارب ڈالر کی مالی معاونت منظور کر دی ہے۔ یہ کان دنیا میں سب سے بڑی غیر ترقی یافتہ تانبے کی ذخائر رکھتی ہے، جس کی ترقی کے لیے کینیڈین کمپنی باریگ کام کر رہی ہے۔
تکنیکی ماہرین کے مطابق، تانبا دنیا کے ڈیجیٹل اور برقی آلات میں بنیادی کردار ادا کرے گا، اور عالمی طلب 2050 تک 50 ملین ٹن تک بڑھ جائے گی۔ امریکی حکام چاہتے ہیں کہ یہ معدنیات امریکا اور اس کے اتحادیوں کی معاشی و اسٹریٹجک ضروریات کے لیے دستیاب رہیں۔
شدت پسندوں کے خلاف جنگ اور انسانی نقصانپشاور کے ایک اسپتال میں متعدد زخمی جوان زیر علاج ہیں، جن میں 30 سالہ اللہ الدین بھی شامل ہیں، جن کی ٹانگیں ایک ہفتہ قبل پاکستانی طالبان کے حملے میں ضائع ہو گئی تھیں۔ اس حملے کے دوران دشمن کے ہتھیار امریکی ساختہ تھے، جو انہیں زیادہ مہلک بنا رہے ہیں۔
پشاور کے کرنل بلال سعید نے کہا کہ پہلے IED دھماکوں سے زخمی ہونے والے تھے، اب لمبی دوری کی گولیوں اور اسنائپر فائر سے زخمی لائے جاتے ہیں۔ شدت پسند رات کے وقت بھی کارروائی کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس نائٹ وژن آلات ہیں۔
بلوچستان میں بی ایل اے اور دیگر شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں میں امریکی ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بی ایل اے کی کارروائی میں 33 افراد ہلاک ہوئے، اور پاکستانی حکام نے کم از کم 133 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
جیوپولیٹیکل تناظر اور عالمی دلچسپیچین دنیا کی 90 فیصد ریئر ارتھ مصنوعات کا کنٹرول رکھتا ہے، اور امریکا ٹرمپ کی قیادت میں اس پر اپنی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی معدنی دولت اور اس کی سرحدی خطرات عالمی جیوپولیٹیکل جدوجہد کا مرکز بن چکے ہیں۔
پاکستانی فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سی این این کو بتایا کہ ہم اس معاملے کو حل کریں گے، ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں شمال مغربی پہاڑوں میں شدت پسندوں کے خلاف مزید خونریز لڑائیاں متوقع ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بلوچستان بی ایل اے پاکستان چین ریئر ارتھ منرلز طالبان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بلوچستان بی ایل اے پاکستان چین ریئر ارتھ منرلز طالبان امریکی ہتھیار قیمتی معدنیات شدت پسندوں کے میں امریکی پاکستان کے کے مطابق رہے ہیں اور اس کے لیے کی کان
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔