بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے خلاف سینیٹائزیشن آپریشنز، 197 دہشت گرد ہلاک، 22 جوان دشہید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ :بلوچستان بھر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور اور مسلسل سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں، جن کے دوران گزشتہ تین روز میں دہشت گرد نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان آپریشنز میں اب تک 197 دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کے 22 بہادر جوانوں نے وطن کی خاطر جامِ شہادت نوش کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشنز دہشت گردوں کی جانب سے تین روز قبل کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، گوادر اور پسنی میں کیے گئے بزدلانہ اور منظم حملوں کے بعد شروع کیے گئے۔ ان حملوں میں خواتین، بچوں اور مزدوروں سمیت متعدد معصوم شہری جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد ریاستی اداروں نے دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیوں میں تیزی کر دی۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس نے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔ آپریشنز کے دوران مشتبہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کیا جا رہا ہے جبکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور انہیں ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ فورسز نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گرد نیٹ ورک کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کی قربانیاں پوری قوم کا فخر ہیں اور بلوچستان کے عوام امن و استحکام کے قیام کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دشمن قوتوں کے ایما پر کام کرنے والے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو کسی صورت اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور بلوچستان کو پُرامن، مستحکم اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔