وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات باہمی خواہش پر ہوئی، سیکیورٹی اور فنڈز پر مکمل اتفاق ہوا، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی ملاقات دونوں رہنماؤں کی باہمی خواہش پر ہوئی جس میں سیکیورٹی اور مالی امور پر تفصیلی گفتگو اور مکمل اتفاق رائے پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی اور طالبہ کا دلچسپ مکالمہ، سوال کرپشن جواب جماعتی وابستگی و دیگر صوبے
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی جس میں امن و امان اور فنڈز کے معاملات زیرِ بحث آئے۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے اس موقعے پر کہا کہ سول لا اینڈ آرڈر اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے جس پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو منظم کیا جا رہا ہے اور پولیس کی استعداد کار بھی بہتر بنائی جا رہی ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات!
ملاقات میں مزمل اسلم، رانا ثنا ء اللہ اور امیر مقام بھی موجود! pic.
— WE News (@WENewsPk) February 2, 2026
رانا ثنا اللہ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا کے فنڈز، تیراہ کے رہائشیوں کی نقل مکانی اور این ایف سی ایوارڈ سے متعلق امور بھی وزیراعظم کے سامنے رکھے جنہیں وزیراعظم نے تحمل سے سنا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے وسائل محدود ہیں اور وفاق کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پہلی اہم ملاقات، کیا کچھ زیر بحث آیا؟
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خلاف واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے مطابق دہشت گرد ہمارے بہن بھائیوں کے قاتل ہیں اور ان کے لیے کسی قسم کی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ وہ متعدد بار شہدا کے جنازوں میں شرکت کر چکے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ صوبے کے مسائل اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر بات ہوئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی pic.twitter.com/uMLKG4DDbu
— WE News (@WENewsPk) February 2, 2026
سیاسی امور پر گفتگو کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مذکورہ ملاقات میں سیاسی معاملات پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
28 ویں ترمیم بجٹ سے پہلے؟رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 28 ویں آئینی ترمیم کے بجٹ سے پہلے آنے کے امکانات موجود ہیں تاہم اس کا انحصار فریقین کے درمیان اتفاق رائے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایک بڑا معاملہ ہے جس پر وفاق اور صوبوں کے درمیان فنڈز کی منصفانہ تقسیم کے لیے اتفاق ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی نے رات گئے اڈیالہ جیل کے باہر سے دھرنا ختم کیوں کیا؟
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ آئندہ دنوں میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق چند امور پر بھی بات چیت متوقع ہے جو وقت کے ساتھ آگے بڑھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
28 آئینی ترمیم این ایف سی ایوارڈ خیبرپختونخوا رانا ثنا اللہ شہباز شریف اور سہیل آفریدی ملاقات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این ایف سی ایوارڈ خیبرپختونخوا رانا ثنا اللہ شہباز شریف اور سہیل ا فریدی ملاقات رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی سہیل آفریدی شہباز شریف نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔