Express News:
2026-07-23@23:33:46 GMT

بسنت پالا اُڑنت

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

موسمیاتی تبدیلیوں نے جہاں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، وہیں پاکستان بھی اس بدلتے موسم کی شدت کو محسوس کر رہا ہے۔ ہمارے بچپن میں مارچ کے اختتام تک بارشیں اپنا پورا جوبن دکھاتی تھیں،آسمان بار بار برستا تھا اور موسم میں ایک خاص تازگی محسوس ہوتی تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ بارشیں کم ہوتی چلی گئیں۔

اس سال تو یوں محسوس ہوا جیسے بارش ہم سے روٹھ ہی گئی ہو اور جو چند بوندیں برسیں بھی، وہ موسم کے مزاج میں کوئی نمایاں تبدیلی پیدا نہ کر سکیں۔

لاہور جو کبھی خون جما دینے والی سردی کے لیے مشہور ہوا کرتا تھا، اس بار سموگ اور دھند کی موٹی چادر میں ہی لپٹا رہا۔ پورے موسم سرما میں چند ہی دن ایسے آئے جب سردی نے اپنی اصل جھلک دکھائی، وہ بھی اس حد تک کہ معمول کے گرم کپڑوں میں گزارا ہو گیا۔

کہاں اس لاہور کی سردی، جب رات کو کہرا پڑتا، صبح اٹھتے تو درختوں، پتوں اور کھلے میدانوں پر اس کہرے کی سفید تہہ جمعی نظر آتی تھی ، لاہور کے شہری  سوجی، گاجر، دال اور پیٹھے کے حلوے ، پوریاں، کچوریاں، گرما گرم دودھ جلیبیاں، بداموں والی کشمیری چائے اور رنگ برنگے مشروبات سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔

لوگ گرم ملبوسات میں ملبوس گیس ہیٹر کے سامنے بیٹھ کر خشک میوہ جات سے جسم کو حرارت پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔

اس بار سردیوں کی یاد میں اگر کسی چیز سے انصاف ہوا تو وہ خشک میوہ جات تھے۔سردیوں کی یہ یاد شاید اس لیے بھی زیادہ شدت سے دل میں اتر رہی ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد پنجاب حکومت نے لاہور بلکہ پنجاب اور پورے پاکستان کے روایتی تہورا بسنت کو بحال کرنے کا دلیرانہ فیصلہ کیا ہے۔

لاہوریوں کے نزدیک بسنت محض ایک تہوار نہیں بلکہ بہار کی آمد کا اعلان ہوتی ہے۔ ہر سال یہ تہوار فلک شگاف نعروں کے ساتھ منایا جاتا تھا مگر افسوس کہ ہمارے اپنے ہی کچھ لوگوں نے اس خوبصورت موسمی جشن کو ذاتی مفادات اور سیاست بازی کی نذر کر دیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ تہوار خوشیوں کے بجائے خونریزی کی علامت بن گیا اور وہ وقت بھی آیا جب حکومت کو مجبوراً اس عظیم ثقافتی تہوار پر پابندی عائد کرنا پڑی۔

یوں پچھلے کئی برسوں سے بہار خاموشی سے آتی اور گزر جاتی رہی۔ بسنت کے ذریعے جو ڈھول ڈھمکوں کے ساتھ بہار کی آمد کا اعلان ہوتا تھا وہ کہیں کھو گیا۔

بسنت لاہور کا سالانہ ثقافتی تہوار تھا اور ہے، جب بھی یہ تہوار منایا جاتا، دنیا بھر سے لوگ شریک ہوتے اور چند دنوں کے لیے لاہور بسنتی رنگوں میں ڈوب جاتا۔ پرویز مشرف کے دور میں اس تہوار کو نئی جہت اور سرکاری سرپرستی ملی اور یہ تہوار پورے پاکستان میں منایا گیا بلکہ یہ عالمی تہوار بن گیا۔

اندرون لاہور کی قدیم عمارتیں رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا اٹھتیں، رات بھر لاہوری کھانوں کی خوشبو اور ’’بو کاٹا‘‘ کی صدائیں فضا میں گونجتی رہتیں۔

کچھ چھتوں پر گانوں، رقص اور سرور کی محفلیں سجتیں جہاں پتنگ باز گڈیاں اور پتنگیں اڑانے کے ساتھ ساتھ مہمانوں کو بوقت ضرورت محفوظ طریقے سے نیچے اتارنے کی ذمے داری بھی نبھاتے تھے۔

اب محترمہ مریم نواز نے اس تہوار سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ اس بار سخت ترین حفاظتی انتظامات اور خلاف ورزی پر کڑی سزاؤں کا اعلان کیا گیا ہے۔

میرے اپنے بچے اس دور میں جوان ہوئے جب بسنت پر پابندی تھی۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں یاد ہے لاہور میں بسنت منائی جاتی تھی تو جواب ملا کہ بسنت کا نام تو سنا ہے مگر ساتھ ہی سوال بھی آیا کہ آخر بسنت ہوتی کیا تھی؟

ہم نے اپنی نئی نسل سے کئی خوشیاں اور تہوار چھین لیے ہیں جن کی بنیادی وجہ انتہاپسند نظریات ، دہشت گردی اور سیکیورٹی کا وہ مسئلہ ہے جس نے ملک کے حسن کو گہنا دیا ہے۔ کئی میلے اور ثقافتی تقریبات صرف اس لیے بند کر دی گئیں کہ ہم ان میں شریک لوگوں کی حفاظت یقینی نہیں بنا سکتے یا انتہاپسندوں کے دباؤ میں آگئے۔

نوجوانوں کو اپنی ثقافت سے دور کر کے ہم نے انٹرنیٹ اور موبائل فون کے حوالے کر دیا جہاں وہ ایک مصنوعی دنیا میں کھو کر اپنے اردگرد کی حقیقت سے بے خبر ہو جاتے ہیںاور یہ خرافات ان کی ذہنی بالیدگی میں انتشار پیدا کر رہی ہیں۔

ہم نے اکثر اپنی بدانتظامی کو چھپانے کے لیے سیکیورٹی جیسے بہانوں کا سہارا لیا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جب انتظامیہ کمزور ہو جائے تو بدانتظامی لازمی طور پر فروغ پاتی ہے۔

 پتنگ بازی صدیوں پرانی ایک تفریح اور کھیل ہے، یہ دنیا کے تقریباً ہر ملک اور تہذیب میں موجود ہے مگر جب لوگوں کو بے لگام چھوڑ دیا جائے تو تفریح بھی حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔

بسنت کے ساتھ بھی یہی ہوا اور خوشی کا یہ ذریعہ ایک بے رحم قتل گاہ میں بدل گیا یہاں تک کہ معاملہ عدالتوں تک جا پہنچا۔ ابتدا میں حکومتی ڈھیل کا فائدہ اٹھایا گیا بڑے لوگ بسنتی رنگ میں رنگنے کو تیار تھے، اس لیے سختی نہ کی گئی، نتیجتاً ڈور کی لگام ڈھیلی پڑ گئی۔

جب بسنتی رنگ سرخ ہونے لگا تو اچانک سب کچھ بند کرنے کا اعلان ہو گیا۔اس فیصلے نے لاہوریوں کو ایک طویل عرصے تک اداس رکھا۔ وہ بہار کا استقبال بسنت کے روایتی انداز میں تو نہ کر سکے مگر بسنت کی یاد میں اکٹھے ہو کر دو چار آنسو ضرور بہاتے رہے۔

آج انھی آنسوؤں کو پونچھنے کی کوشش محترمہ مریم نواز کر رہی ہیں جنھوں نے پاکستان کے ثقافتی تہوار کو بحال کرنے کا دلیرانہ قدم اٹھا کر پاکستانیوں خصوصاً لاہوریوں کے دل جیتنے کی کوشش کی ہے۔

ہماری دعا ہے کہ لاہوریوں کے بسنت پالا اُڑنت کے نعروں میں یہ خوبصورت تہوار خیر و عافیت سے گزرے اور لاہور ایک بار پھر بہار کے رنگوں میں نہا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حقیقی جمہوریت کی تلاش کا اعلان کے ساتھ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا