data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260204-01-6
اسلام آ باد(مانیٹر نگ ڈ یسک )رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ (جنوری 2026 ء)میں پاکستان کی برآمدات پہلی بار 3 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں البتہ رواں مالی سال2025ء 2026ء کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری)میں تجارتی خسارے میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اعدادوشمار کے مطابق برآمدات کاحجم 35 فیصد اضافے سے 3.

1 ارب ڈالرتک پہنچ گیا ہے۔ جنوری میں درآمدات 5 فیصدکم ہوکر 5.8 ارب ڈالر رہ گئیں۔ ماہانہ تجارتی خسارہ 29 فیصدکم ہوکر 2.7 ارب ڈالر تک محدود رہ گیا ہے، البتہ مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں تجارتی خسار ے میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق جولائی تاجنوری تجارتی خسارہ 17 ارب ڈالرسے بڑھ کر 22 ارب ڈالرسے تجاوزکرگیا۔ جولائی تا جنوری برآمدات 7 فیصد کمی سے 18.19 ارب ڈالر رہیں۔ اس دوران درآمدات 9.42 فیصد بڑھ کر 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ گزشتہ سال 7 ماہ میں 36.77 ارب ڈالر کی درآمدات کی گئی تھیں۔ جنوری 2025ء کے مقابلے پاکستانی برآمدات میں 3.73 فیصد اضافہ ہوا۔مشیر وزیرخزانہ خرم شہزادکا کہنا ہے کہ بڑھتی ماہانہ برآمدات اورکم ہوتی درآمدات معیشت میں بہتری کے آثار ہیں ۔ کم توانائی لاگت اور شرح سود میں کمی سے برآمدات مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں 28 فیصد اضافہ فیصد اضافہ ہوا برا مدات ارب ڈالر مالی سال درا مدات

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ