اے پی این ایس کاسربراہی اجلاس‘ خصوصی قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-08-14
کراچی (اسٹاف رپورٹر) اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 3 فروری 2026ء کو کراچی میں منعقد ہونے والے اپنے اجلاس میں ایک خصوصی قرارداد منظور کی، جس میں گزشتہ 15 ماہ سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ڈان میڈیا گروپ کو سرکاری اشتہارات پر مکمل پابندی پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے نشاندہی کی کہ قائداعظم کے جاری کردہ اس اخبار کو بقا کے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔اے پی این ایس کی متفقہ رائے میں روزنامہ ڈان کو سرکاری اشتہارات سے محروم کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ آزادی اظہار پر بھی حملہ ہے۔ اے پی این ایس سمجھتی ہے کہ یہ اقدام میڈیا گروپ کو اپنی اداراتی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اے پی این ایس نے اس امر کو دہرایا کہ سرکاری اشتہارات قومی خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں، لہٰذا انہیں اخبارات کی ایڈیٹوریل پالیسی پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر مالی دباؤ اور گھٹن کے اس مشکل وقت میں ڈان میڈیا گروپ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اخباری صنعت کے لیے سرکاری اشتہارات کے نرخوں میں اضافے سے متعلق وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے3 سال قبل کیے گئے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر وفاقی حکومت کی مسلسل عدم توجہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس تاخیر کے باعث نہ صرف اخباری صنعت شدید مالی بحران کا شکار ہو چکی ہے بلکہ یہ اس امر کا اظہار بھی ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے نوٹ کیا کہ پی آئی ڈی اسلام آباد نے 2020ء کی نئی اشتہاری پالیسی کے بعد جاری کیے گئے اشتہارات سے متعلق رکن مطبوعات کے واجبات کا بڑا حصہ تاحال ادا نہیں کیا۔ اراکین نے پی آئی ڈی سے مطالبہ کیا کہ بقایاجات کی ادائیگی میں تیزی لائی جائے اور پرنٹ میڈیا کو اشتہارات کے مجموعی حجم میں منصفانہ حصہ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اشتہارات جاری کرنے والے مشتہرین کو اپنی پسند کے مطابق میڈیا تجویز کرنے کا حق دیا جائے اورپی آئی ڈی کے علاقائی دفاتر کو اپنے ریجن کے اخبارات کو میڈیا جاری کرنے کا اختیار دیا جائے۔سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین نے ایگزیکٹو کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (SID) کی جانب سے جاری کیے جانے والے اشتہارات کے مجموعی حجم میں اخبارات کا حصہ انتہائی کم سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ نان بجٹڈ اشتہارات کی ادائیگیاں اور دیگر بقایاجات بھی تاحال ادا نہیں کی گئیں۔ اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ عہدیداران وزیرِ اطلاعات سندھ، جناب شرجیل انعام میمن سے ملاقات کریں گے اور انہیں سندھ کے اخبارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کریں گے۔ایگزیکٹو کمیٹی نے میسرز بیلنس پبلسٹی (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لاہور اور میسرز ریڈ اوشن کمیونیکیشنز اینڈ پی آر (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لاہور کی عبوری ایکریڈیٹیشن کی درخواستوں کی منظوری دی۔اس کے علاوہ ایگزیکٹو کمیٹی نے میسرز سلوشن 1، کراچی کی تنظیم نو کی بھی منظوری دی۔اجلاس میں سینیٹر سرمد علی صدر، شہاب زبیری نائب صدر، محمد اطہر قاضی سیکرٹری جنرل، محسن بلال جوائنٹ سیکرٹری، محسن سیال (روزنامہ آفتاب ملتان)،بلال فاروقی (روزنامہ آغازکراچی)، نجم الدین شیخ(روزنامہ دیانت)، محمد یونس مہر(روزنامہ ہلچل حیدرآباد)، قاضی اسد عابد(روزنامہ عبرت)، سید اکبر طاہر(روزنامہ جسارت)، فیصل شاہجہاں (روزنامہ جدت)، جاوید مہر شمسی(روزنامہ کلیم)، عامر ملک (روزنامہ مشرق کوئٹہ)، زاہدہ عباسی (روزنامہ نؤسج)، سلمان قریشی(ماہنامہ نیا رخ)، ایس ایم منیر جیلانی(روزنامہ پیغام)، مبشر میر(روزنامہ پاکستان لاہور)، ابراہیم فیصل(پاکستان آبزرور)، ہمایوں گلزار(سیادت بہاولپور) اور عرفان اطہر(روزنامہ تجارت)۔ وسیم احمد (روزنامہ عوام کوئٹہ)، عنصر محمود بھٹی (ماہنامہ سینٹر لائن)، فوزیہ شاہین (ماہنامہ دستک کراچی)، بلال محمود (ہفت روزہ فیملی لاہور) نے بذریعہ زوم شرکت کی جبکہ ممتاز علی پھلپوٹو بطور مبصر شریک ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایگزیکٹو کمیٹی نے سرکاری اشتہارات اے پی این ایس اراکین نے کا اظہار نہیں کی کیا گیا کیا کہ
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔