Jasarat News:
2026-07-24@05:29:53 GMT

اے پی این ایس کاسربراہی اجلاس‘ خصوصی قرارداد منظور

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260204-08-14
کراچی (اسٹاف رپورٹر) اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 3 فروری 2026ء کو کراچی میں منعقد ہونے والے اپنے اجلاس میں ایک خصوصی قرارداد منظور کی، جس میں گزشتہ 15 ماہ سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ڈان میڈیا گروپ کو سرکاری اشتہارات پر مکمل پابندی پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے نشاندہی کی کہ قائداعظم کے جاری کردہ اس اخبار کو بقا کے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔اے پی این ایس کی متفقہ رائے میں روزنامہ ڈان کو سرکاری اشتہارات سے محروم کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ آزادی اظہار پر بھی حملہ ہے۔ اے پی این ایس سمجھتی ہے کہ یہ اقدام میڈیا گروپ کو اپنی اداراتی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اے پی این ایس نے اس امر کو دہرایا کہ سرکاری اشتہارات قومی خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں، لہٰذا انہیں اخبارات کی ایڈیٹوریل پالیسی پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر مالی دباؤ اور گھٹن کے اس مشکل وقت میں ڈان میڈیا گروپ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اخباری صنعت کے لیے سرکاری اشتہارات کے نرخوں میں اضافے سے متعلق وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے3 سال قبل کیے گئے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر وفاقی حکومت کی مسلسل عدم توجہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس تاخیر کے باعث نہ صرف اخباری صنعت شدید مالی بحران کا شکار ہو چکی ہے بلکہ یہ اس امر کا اظہار بھی ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے نوٹ کیا کہ پی آئی ڈی اسلام آباد نے 2020ء کی نئی اشتہاری پالیسی کے بعد جاری کیے گئے اشتہارات سے متعلق رکن مطبوعات کے واجبات کا بڑا حصہ تاحال ادا نہیں کیا۔ اراکین نے پی آئی ڈی سے مطالبہ کیا کہ بقایاجات کی ادائیگی میں تیزی لائی جائے اور پرنٹ میڈیا کو اشتہارات کے مجموعی حجم میں منصفانہ حصہ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اشتہارات جاری کرنے والے مشتہرین کو اپنی پسند کے مطابق میڈیا تجویز کرنے کا حق دیا جائے اورپی آئی ڈی کے علاقائی دفاتر کو اپنے ریجن کے اخبارات کو میڈیا جاری کرنے کا اختیار دیا جائے۔سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین نے ایگزیکٹو کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (SID) کی جانب سے جاری کیے جانے والے اشتہارات کے مجموعی حجم میں اخبارات کا حصہ انتہائی کم سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ نان بجٹڈ اشتہارات کی ادائیگیاں اور دیگر بقایاجات بھی تاحال ادا نہیں کی گئیں۔ اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ عہدیداران وزیرِ اطلاعات سندھ، جناب شرجیل انعام میمن سے ملاقات کریں گے اور انہیں سندھ کے اخبارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کریں گے۔ایگزیکٹو کمیٹی نے میسرز بیلنس پبلسٹی (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لاہور اور میسرز ریڈ اوشن کمیونیکیشنز اینڈ پی آر (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لاہور کی عبوری ایکریڈیٹیشن کی درخواستوں کی منظوری دی۔اس کے علاوہ ایگزیکٹو کمیٹی نے میسرز سلوشن 1، کراچی کی تنظیم نو کی بھی منظوری دی۔اجلاس میں سینیٹر سرمد علی صدر، شہاب زبیری نائب صدر، محمد اطہر قاضی سیکرٹری جنرل، محسن بلال جوائنٹ سیکرٹری، محسن سیال (روزنامہ آفتاب ملتان)،بلال فاروقی (روزنامہ آغازکراچی)، نجم الدین شیخ(روزنامہ دیانت)، محمد یونس مہر(روزنامہ ہلچل حیدرآباد)، قاضی اسد عابد(روزنامہ عبرت)، سید اکبر طاہر(روزنامہ جسارت)، فیصل شاہجہاں (روزنامہ جدت)، جاوید مہر شمسی(روزنامہ کلیم)، عامر ملک (روزنامہ مشرق کوئٹہ)، زاہدہ عباسی (روزنامہ نؤسج)، سلمان قریشی(ماہنامہ نیا رخ)، ایس ایم منیر جیلانی(روزنامہ پیغام)، مبشر میر(روزنامہ پاکستان لاہور)، ابراہیم فیصل(پاکستان آبزرور)، ہمایوں گلزار(سیادت بہاولپور) اور عرفان اطہر(روزنامہ تجارت)۔ وسیم احمد (روزنامہ عوام کوئٹہ)، عنصر محمود بھٹی (ماہنامہ سینٹر لائن)، فوزیہ شاہین (ماہنامہ دستک کراچی)، بلال محمود (ہفت روزہ فیملی لاہور) نے بذریعہ زوم شرکت کی جبکہ ممتاز علی پھلپوٹو بطور مبصر شریک ہوئے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایگزیکٹو کمیٹی نے سرکاری اشتہارات اے پی این ایس اراکین نے کا اظہار نہیں کی کیا گیا کیا کہ

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن