بلوچ قوم کی مدد سے بھارت اور افغانستان کو شکست دی جائے گی‘خواجہ آ صف
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، بلوچ قوم کی مدد سے ہم بھارت اور افغانستان کو شکست دیں گے۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے دہشت گرد افغانستان کے ایجنٹ ہیں، یہ لوگ حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔ جو ہمارے دشمن ہیں یہ ان کے ایجنٹ ہیں، یہ دشمنوں کی پشت پناہی سے ہم پر حملہ کرتے ہیں۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پچھلی دہائیوں میں بلوچستان میں ترقی ہوئی، سڑکیں اور تعلیمی ادارے بنے۔ جمہوری کلچر بلوچ قوم کا حق ہے، اپنے وسائل پر بھی بلوچوں کو مکمل طور پر حق ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وفاقی حکومت عام لوگوں کے ساتھ ہے، بلوچستان میں دہشت گردی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، بلوچ قوم کی مدد سے ہم بھارت اور افغانستان کو شکست دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو ہماری حراست میں ہے۔ پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ جنگ میں شکست کے بعد بھارت پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے خلاف جارحیت کر رہا ہے۔ بلوچ عوام کی مدد سے ہم اس پراکسی جارحیت میں افغانستان بھارت کو شکست دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی مدد سے بلوچ قوم خواجہ ا کو شکست
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔