Jasarat News:
2026-06-02@22:18:14 GMT

منعم ظفر خان کے خلاف مقدمہ

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کی سیاست بھی بڑی عجیب وغریب ہے روز ایک نیا تماشا لگایا جاتا ہے۔ حکمراں اپنی طاقت کی گھمنڈ میں آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ بھٹو صاحب جب وزیراعظم تھے تو انہوں نے اپنے سیاسی مخالف چودھری ظہور الٰہی کے خلاف بھینس چوری کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس مقدمے کو عالمی شہرت حاصل ہوئی اور یہ مقدمہ بھٹو صاحب کی بدنامی کا باعث بنا۔ اسی طرح انگنت واقعات سے ہماری تاریخ بھری ہوئی ہے۔ حکمرانوں کے ان مظالم پر انہیں اللہ کے قہر کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن یہ حکمران طبقہ اپنا قبلہ درست کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کی تازہ مثال کراچی میں سانحہ گل پلازہ پر تاجر برادری سے اظہار یکجہتی اور سندھ حکومت کی نااہلی کے خلاف جماعت اسلامی کراچی کے زیراہتمام شاہراہ فیصل پر منعقدہ عظیم الشان اور تاریخی ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ کا انعقاد ہے۔ اس مارچ میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کرکے سندھ حکومت کے ظلم اور کراچی دشمنی کے خلاف احتجاج بلند کیا۔ اس احتجاج پر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت آپے سے باہر ہوگئی اور امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

منعم ظفر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف درج کیا جانے والا یہ مقدمہ بلاشبہ اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے اوچھے ہتھکنڈے کے ذریعے کراچی کا امن تباہ کرنا چاہتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنے کے اعلان نے سندھ حکومت کے اوسان خطا کر دیے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے یا کراچی کو صوبہ بنانے کے نعروں کو مسترد کرتے ہوئے کراچی میں بااختیار شہری حکومت کا مطالبہ کر کے لڑائو اور حکومت کرو کی پالیسی اختیار کرنے والوں کے ارمانوں پر اوس ڈال دی۔ ایس ایچ او ٹیپو سلطان کی جانب سے امیر جماعت اسلامی کراچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بجائے گل پلازہ پر حقیقی طور پر تو مقدمہ وزیر اعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کے خلاف درج ہونا چاہیے تھا۔ 70 سے زائد معصوم لوگ اس سانحہ میں جل کر خاکستر ہوگئے لیکن میئر کراچی کے ماتحت چلنے والا ادارہ فائر بریگیڈ وقت پر نہیں پہنچا اور جب پہنچا تو دس منٹ میں پانی ختم ہوگیا۔ صبح سے لیکر شام تک کراچی کی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام رہتا ہے اور روزانہ لاکھوں گاڑیاں اور سیکڑوں ایمبولنسیں ٹریفک جام میں پھنسی ہوتی ہیں۔ کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں مین ہولز کے ڈھکن غائب ہیں اور معصوم بچے اس میں گر کر موت کی گھاٹ اُتر رہے ہیں اس پر بھی مقدمات قائم ہونا چاہیے۔

پاکستان کے آئین کی رو سے ہر سیاسی، مذہبی جماعت کو یہ حق حاصل ہے وہ عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کے لیے پرامن طریقے سے احتجاج کرسکتی ہے۔ جینے دو کراچی مارچ ایک پرامن اور تاریخی مارچ تھا جس لاکھوں کی تعداد میں مرد، خواتین، بزرگ، بچوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس اجتماع میں نہ ایک شیشہ ٹوٹا اور نہ ہی کوئی پتھر پھینکا گیا۔ رہی بات مقدمے کی تو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو اچھی طرح یہ بات جاننا چاہیے کہ یہ جماعت اسلامی ہے جو ان کے لیے لوہے کے چنے ثابت ہوگی۔ جماعت اسلامی کی تاریخ تو قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ کراچی میں قیام امن کے لیے جماعت اسلامی کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی نے کراچی کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ایم کیو ایم کے دہشت گردی کے دور میں جب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، جمعیت علمائے اسلام، پی ٹی آئی سب ہی چوہوں کی طرح بلوں میں دبکے ہوئے تھے۔ پولیس کے تھانوں میں بھی تالے لگے ہوئے تھے اور پولیس اہلکار بھی اپنے علاقوں میں وردی پہننے میں احتیاط کرتے تھے۔ ایسے میں جماعت اسلامی اور اس کے بہادر اور جرأت مند کارکن ہی میدان عمل میں موجود تھے جو بوری بند لاشوں کی سیاست کے سامنے ناصرف یہ کہ کلمہ حق بلند کررہے تھے بلکہ ڈاکٹر پرویزمحمود شہید، شہید محمد اسلم مجاہد، شہید مرزا لقمان بیگ، شہید ریاض انجم، شہید جمال طاہر، شہید رشید بھیا اور شہید عامر سعید سے لیکر اسلامی جمعیت طلبہ کے سیکڑوں نوجوانوں کے پاک لہو نے کراچی کی گلیوں کو گلزار کیا۔

آج جب جماعت اسلامی کی قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے میں کراچی میں امن قائم ہوگیا ہے ایسے حالات میں اپنی سیاست چمکانے کے لیے بھان متی کا کنبہ میدان میں کود پڑا ہے۔ لیکن کراچی کے شہری ان کے چہرے اچھی طرح پہنچاتے ہیں۔ ان کی تمام سازشوں اور دھاندلیوں کے باوجود بلدیاتی انتخابات سے لیکر قومی اور صوبائی انتخابات تک تمام پارٹیوں کو کراچی کی عوام نے بری طرح مسترد کردیا۔ جماعت اسلامی کراچی سے قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔ وہ تو دعائیں دی جائیں فارم 47 کی سیاست کو پروان چڑھانے والی اسٹیبلشمنٹ قوتوں کوجنہوں نے بمشکل پانچ سو ووٹ لینے والوں کو قومی اور صوبائی اسمبلی کا رکن بنا دیا۔ تحریک انصاف کی حمایت سے جماعت اسلامی کے میئر پر بھی شب خون مارا گیا اور جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں نے جمہوریت کے منہ پر ایسی کالک ملی کہ اسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ ظالموں نے تو جمہوریت کو ایک تماشا بنا دیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی پسند اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے من پسند افراد کو فارم 47 کے ذریعے منتخب کرایا اور اب وہ ان سے اپنے خاص مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ آج جب جماعت اسلامی کراچی کے امیر اور ان کے ساتھیوں پر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے ایما پر یہ ناجائز مقدمہ قائم کیا گیا ہے جو اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی کے شہریوں کے احتجاج پر غصے سے پاگل ہوچکی ہے اوراس کا بس نہیں چل رہا ہے وہ جماعت اسلامی اور کراچی کے شہریوں کے ساتھ کیا کرے۔

سندھی کو مہاجر سے اور مہاجر کو سندھی سے لڑانے کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے جو 14 فروری کو سندھ اسمبلی پر دھرنے کی کال دی ہے پیپلز پارٹی نے اگر اس مقدمے کی آڑ میں جماعت اسلامی کے قائدین کو گرفتار کرنے کی کو شش کی تو یہ کراچی کے پرامن ماحول تباہ کرے کی کوشش ہوگی۔ جماعت اسلامی نے اس سے قبل بھی سندھ اسمبلی پر 29 دنوں کا تاریخی دھرنا دیا تھا اور اب جب کہ کرچی کے حالات انتہائی ناگفتہ ہوچکے ہیں۔ کراچی کے شہری گٹروں میں گر کر ہلاک ہورہے ہیں۔ ڈمپروں، ٹینکروں اور ٹرالروں کے نیچے کچلے جارہے ہیں۔ کراچی کی مارکیٹوں، شاپنگ پلازہ، فیکٹری کارخانوں میں سیفٹی کے کوئی قوانین نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی جو کہ کراچی کے ہر مسئلہ اور ایشوز پر موجود ہوتی ہے وہ کراچی کے شہریوں کے غم اور خوشیوں کی ساتھی ہے۔ سانحہ گل پلازہ کے واقعہ پر جب جماعت اسلامی نے شاہراہ فیصل پر احتجاج اور مارچ کیا تو پیپلز پارٹی کی متعصب حکومت کو یہ سب کچھ برداشت نہیں ہوسکا۔ لاکھوں مظاہرین نے سانحہ گل پلازہ پر وزیر اعلیٰ اور میئر کراچی سے استعفے کا مطالبہ کیا اور نعرے لگائے تو اس پر بھی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ کراچی کی سڑکوں اور کچے کے علاقوں میں ڈاکو آتشی اسلحہ لیے دندناتے پہر رہے ہیں لیکن انہیں نکیل ڈالنے کے بجائے شاہراہ فیصل کے اطراف میں استقبالیہ ٹینٹ لگانے پر نام ونہاد تیز دھار آلات نظر آنے پر بھی دفعہ 154 کے تحت مقدمہ در ج کرلیا گیا ہے۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ سو سنار کی اور ایک لوہار کی پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کو لاوارث شہر سمجھا ہوا ہے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی مل کر کراچی کے شہریوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں لیکن اب ان کی لوٹ مار، کرپشن، عیاشیوں اور بدمعاشیوں کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ کراچی کے بچانے کے لیے اور کراچی کی تاریکیوں کو ختم کرکے اسے دوبارہ روشنیوں کا شہر بنانے کے لیے اہل کراچی حافظ نعیم الرحمن اور منعم ظفر خان کی قیادت میں اٹھے گئے ہیں اور ظلم کے نظام کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جائے۔

اے خاک نشینوں اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آپہنچا
جب تخت اچھالے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے

قاسم جمال سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کراچی کے شہریوں کراچی میں گل پلازہ نے کراچی کراچی کی کے خلاف پر بھی گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا