جاندار کشمیر پالیسی وقت کی ضرورت‘ آزاد کشمیر بیس کیمپ مضبوط بنایا جائے‘ لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ کشمیر پر واضح اور جاندار قومی ریاستی پالیسی وقت کی ضرورت ، آزاد کشمیر کی قیادت بیس کیمپ کو مضبوط بنائے ، اسلام آباد ، راولپنڈی سے بیس کیمپ میں مداخلت بند ہونی چاہیے۔ سری نگر میں پاکستان کی بے وفائی کا پیغام نہیں جانا چاہیے۔جماعت اسلامی اسلام آباد کے زیر اہتمام آل پارٹیز یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان گمبھیر سیاسی بحران کی زد میں ہے ،ہائبرڈ نظام نہیں چل رہا، سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے بھیک نہ مانگی جائے۔ کانفرنس سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، قائمقام امیر جماعت اسلامی گلگت بلتستان مشتاق خان ایڈووکیٹ، کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی ، بھارت میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، معروف کشمیری رہنما الطاف بٹ ، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر صفدر ،آل پارٹیز کانفرنس کے رہنماشیخ عبدالمتین ، جنرل سیکرٹری سی ڈی اے مزدور یونین چودھری یاسین، رہنما ملی یکجہتی کونسل آزاد کشمیرقاضی شاہد حمید، سینئر صحافی نواز رضا، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رفیق ڈار، سابق سیکرٹری جنرل شعبہ خواتین جماعت اسلامی جموں و کشمیرڈاکٹر میمونہ حمزہ، خاتوں رہنما عظمی گل، مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کے رہنما ثنا اللہ ڈار، سابق کنوینر حریت کانفرنس محمود ساغر، تحریک نوجوانان پاکستان عبداللہ گل، سینئر قانون دان عزیر نشتر نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ 5فروری کا جب بھی ذکر ہوگا تو قاضی حسین احمد کا ذکر بھی ہوگا۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے حکومت سے ملاقات کی تھی جس کے بعد 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا فیصلہ ہوا۔ پہلا پروگرام 5فروری 1990میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی تحریکوں میں طویل وقت لگتا ہے آزادی کی تحریکیں مرتی نہیں ہیں وہ کامیاب ہوتی ہیں۔ 1857ء میں ہندوستان پر انگریز نے قبضہ کیا اور 90سال بعد آزادی ملی۔ فلسطین کی تحریک بھی 105سال سے چل رہی ہے یہ تحریک بھی زندہ ہے۔ فلسطینی قربانیاں دے رہے ہیں۔ کشمیر کی آزادی آئین کی چند آرٹیکل کی مرہون منت نہیں ہے، بھارت کشمیریوں کی آزادی سے نہیں روک سکتا ہے۔ پاکستان میں بھی کوئی مسئلہ کشمیر کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد نے دنیا کو حیران اور اپنی طرفہ متوجہ بھی کیا۔ 1988میں آزادی کی تحریک عروج پر پہنچی تھی۔ تحریک آزادی کشمیر کسی کے منفی پروپیگنڈے سے ختم نہیں ہوسکتی ہے۔ تحریک کی پشت پر اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا اور اپنے مسائل خود حل کرنے ہوں گے۔ امریکا افغانستان پر حملہ آور ہوا مگر 20سال بعد امریکا اور نیٹو کو افغانستان سے نکلنا پڑا۔ طوفان اقصیٰ کی وجہ سے فلسطین کا مسئلہ دوبارہ دنیا میں اجاگر ہوا۔ اسی طرح کشمیریوں کی قربانیاں بھی رائیگاں نہیں جائیں گئی۔ بھارت کو بھی کشمیر کے حوالے سے اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا۔ پاکستان کو بھی کشمیر پر ایک واضح موقف اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بیس کیمپ میں 5سال میں 5 وزیراعظم تبدیل ہوگئے ہیں اس بیس کیمپ کی کیا اہمیت ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیاسی بحران کا سیاسی حل نکالنا چاہیے۔ بورڈ آف پیس کے نام پر فلسطین سے بے وفائی پاکستان اور افواج پاکستان کے لیے نقصان کا باعث ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین پر آنکھیں بند کرکے نہیں بلکہ اس خطے میں اپنے کرادر کو اہم بنانا ہوگا۔ریاست کی طاقت سے اقتدار ہمیشہ نہیں چل سکتا ہے پاکستان امن کو مستحکم کیا جائے۔5فروری کو عوام کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے باہر نکلنا چاہیے اور اس کو تاریخ ساز بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں، سانحہ اے پی ایس کے بعد اے پی سی بلائی گئی، بلوچستان کی صورتحال میں بھی اس طرح کی اے پی سی کی ضرورت ہے، نیشنل ایکشن پلان کی ضرورت ہے، وزیر اعظم اور آرمی چیف سے کہوں گا کہ ریاست کی طاقت کے ساتھ اقتدار نہیں چلتا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام قربانیاں دے رہے ہیں مگر کمی ہمارے اندر ہے۔ آزاد کشمیر جو بیس کیمپ ہونا چاہیے تھا کو ہم نے سیاست کا اکھاڑا بنا دیا ہے، ہم آزاد کشمیر کے عوام کی رائے کا احترام نہیں کریں گے تو احساس محرومی بڑھتا جائے گا۔ آزاد کشمیر میں دوریاں بڑھتی جارہی ہیں، آزاد کشمیر میں اب ماضی کی سی شدت سے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ نہیں لگتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی مسائل ہیں، ڈر ہے کہ پاکستان کے مسائل کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ دب نہ جائے۔ کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھیں گے تو امید ہے کہ ایک دن ضرور کشمیر پاکستان کے حق میں فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگست 2019 کا اقدام 1947 کے بعد اب بڑا بھاری اقدام تھا، کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھنا وقت کی ضرورت ہے، کشمیری عوام کی جدوجہد دنیا کی سب سے طویل تحریک ہے، کشمیر کے عوام کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، سستی ہماری طرف سے ہے۔ غلام محمد صفی نے کہاکہ قاضی حسین احمد نے کشمیر کے لیے وہ کام کیا جو پوری قوم نہیں کرسکی۔ انہوں نے او آئی سی، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سب کو ایک پیج پر کھڑا کردیا، آج ان کی وجہ سے پورے پاکستان میں یوم یکجہتی منایا جاتا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر قومی کے ساتھ عالمی دن بن گیا ہے۔ اب کوئی کشمیر سے جان نہیں چھڑا سکتا ہے ہر سال کشمیر یاد آئے گا۔ قاضی حسین احمد کا کشمیریوں پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کشمیر کو ایک اور قاضی حسین احمد کی ضرورت ہے جو اس مشن کو آگے لے کر چلے۔ جماعت اسلامی حریت کانفرنس کے ساتھ مل کر ایک پالیسی بنائے جو حکومت پاکستان کو اپنانی چاہیے۔
اسلام آباد: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی و دیگر رہنما قومی یکجہتی کشمیر کانفرنس میں شریک ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا انہوں نے کہا کہ یکجہتی کشمیر کی ضرورت ہے اسلام ا باد بیس کیمپ نے کہاکہ کی تحریک کشمیر کے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز