یوم یکجہتی کشمیر، حق خود ارادیت کی حمایت کا دن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: پاکستان بھر میں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے، جسکا مقصد نئی نسل کو مسئلہ کشمیر سے باخبر رکھنا اور نوجوان نسل کے درمیان اس مسئلہ کو زندہ رکھنا ہے۔ یہ دن دراصل کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت، انکے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور بھارتی مظالم کیخلاف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا دن ہے۔ یہ دن اس عہد کی تجدید کا موقع ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد میں انکے ساتھ کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر مظلوم کشمیریوں کی آواز کو عالمی فورمز تک پہنچانے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی یاد دہانی کرانے کا ذریعہ ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض علاقائی نہیں بلکہ انسانی حقوق اور انصاف کا عالمی مسئلہ ہے۔ کشمیری عوام کی قربانیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ آزادی کی جدوجہد کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
مسئلۂ کشمیر برصغیر کا ایک دیرینہ، پیچیدہ اور حساس تنازعہ ہے، جو نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مسئلہ محض جغرافیائی یا سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ ایک ایسی انسانی، سیاسی اور اخلاقی جدوجہد ہے، جس کا تعلق حقِ خودارادیت، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔ برصغیر کی تقسیم1947ء میں برطانوی استعمار کے خاتمے کے ساتھ ہی برصغیر کو دو آزاد ریاستوں، پاکستان اور بھارت، میں تقسیم کیا گیا۔ اس تقسیم کا اصول یہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقوں کو بھارت میں شامل کیا جائے گا۔ ریاستِ جموں و کشمیر، جہاں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی، ایک خود مختار ریاست تھی، جس کا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ ہندو تھا۔ مہاراجہ نے عوامی خواہشات کے برخلاف تاخیری اور متنازع فیصلے کیے، جن کے نتیجے میں بھارتی فوجی مداخلت ہوئی اور کشمیر ایک مستقل تنازعہ بن گیا۔
یہاں پر ہم برصغیر کی تقسیم کو اگر مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم کے ساتھ دیکھیں تو ہمیں ایک واضح مماثلت نظر آتی ہے۔ سنہ 1916ء میں سائیکس پیکوٹ نے جس طرح خفیہ معاہدے میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کو برطانیہ اور فرانس کے لئے تقسیم کیا تھا اور فلسطین، عراق، شام اور دیگر علاقوں میں بھی نوآبادیاتی طاقتوں نے اپنے مفادات کے تحت سرحدیں کھینچیں تھیں، جس کے نتیجے میں دائمی تنازعات نے جنم لیا۔ ٹھیک اسی طرح جب انگریز کو برصغیر سے نکلنا پڑا تو انہوں نے اس خطے میں یعنی برصغیر اور بالخصوص جنوبی ایشیاء میں ایک ایسا تنازعہ کھڑا کیا، جس کے باعث آج تک اس خطے کا امن و سلامتی اور استحکام متاثر ہو رہا ہے۔ انگریز یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ برصغیر میں چلنے والی آزادی کی جدوجہد ایک نہ ایک دن کامیاب ہوگی اور مسلمان اور ہندو قومیں علیحدہ وطن حاصل کریں گی۔
ایسے حالات میں کہ جہاں تقریبا 562 ریاستیں وجود رکھتی تھیں، جن کو نواب اور راجہ مہاراجہ چلایا کرتے تھے۔ ان پانچ سو سے زائد ریاستوں کو انگریز کے منصوبہ کے تحت ہر کسی کو ایک الگ ملک کے طور پر رکھنا تھا، تاکہ برصغیر میں یہ سب کے سب آپس میں گتھم گتھا رہیں اور استعماری طاقتیں یہاں سے جانے کے بعد بھی دور سے بیٹھ کو ان کو کنٹرول کریں۔ یہی منصوبہ سائیکس پیکوٹ نے مشرق وسظی کے لئے بھی ترتیب دیا تھا اور بعد ازاں ایک بڑی تقسیم کے ساتھ ساتھ ایک ناجائز ریاست اسرائیل کو بھی وجود دیا گیا، جو آج تک مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ برطانوی استعمار نے جس طرح فلسطین میں عوام کی خواہشات کو نظرانداز کیا، اسی طرح کشمیر میں بھی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو طاقت کے ذریعے دبایا گیا۔ اقوامِ متحدہ نے کشمیر میں استصوابِ رائے کی قراردادیں منظور کیں، مگر آج تک ان پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔
کشمیری عوام گذشتہ سات دہائیوں سے اپنی شناخت، آزادی اور حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ جدوجہد مختلف مراحل سے گزری ہے۔ سیاسی تحریکوں سے لے کر عوامی احتجاج اور مزاحمت تک۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں، مگر ان کی آواز کو طاقت، قوانین اور بندوق کے زور پر دبایا جاتا رہا۔ آج فلسطین کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ فلسطین کی قسمت کا فیصلہ فلسطینیوں کو کرنے دیا جائے۔ لیکن نام نہاد امن بورڈ بنا کر فلسطین کے عوام کے حق خودارادیت پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین بڑی جنگوں اور بے شمار سرحدی جھڑپوں کی بنیادی وجہ رہا ہے۔ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ تنازعہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مستقل خطرہ بن چکا ہے۔
پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کر عالمی دباؤ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ کشمیری عوام کو درپیش مسائل اور جبر مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کو شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، کرفیو، انٹرنیٹ بندش، سیاسی قیادت کی گرفتاریاں اور اظہارِ رائے پر پابندیاں معمول بن چکی ہیں۔ خصوصی قوانین کے تحت بھارتی فوج کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں، جن کے نتیجے میں عام شہری عدم تحفظ اور خوف کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خواتین، بچے اور بزرگ سب اس جبر کا شکار ہیں۔
چند سال قبل ہندوستان کی حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35A کو بھی ختم کر دیا ہے، جس کے بعد اب باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے کشمیر کے خصوصی مقام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے اور پاکستان اور ہندوستان دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی ہندوستان حکومت کی ہٹ دھرمی اور بدمعاشی ہے کہ وہ کشمیر میں اپنی من مانی کرنے کے لئے اپنے ہی آئین سے آرٹیکلز کو ختم کرچکی ہے۔ مسئلہ کشمیر صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتا، تب تک یہ تنازعہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بنا رہے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے کسی قوم کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر کا مستقبل کشمیری عوام کے ہاتھ میں ہونا چاہیئے اور یہی ایک منصفانہ، پائیدار اور دیرپا حل کی بنیاد ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مورخہ 13 اگست 1948ء اور 5 جنوری 1949ء کی قرار دادیں واضح طور پر کہتی ہیں کہ کشمیر کے عوام کو پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کے لئے آزادانہ رائے شماری کرنے دی جائے، تاکہ حق خود ارادیت کے استعمال سے کشمیر کے عوام اپنی قسمت اور مستقبل کا فیصلہ کریں، لیکن ہندوستان کی حکومت ہٹ دھرم ہے، جس نے کشمیر میں سات لاکھ سے زائد فوج مسلط کر رکھی ہے، تاکہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت استعمال نہ کرنے دیا جائے۔
پاکستان بھر میں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد نئی نسل کو مسئلہ کشمیر سے باخبر رکھنا اور نوجوان نسل کے درمیان اس مسئلہ کو زندہ رکھنا ہے۔ یہ دن دراصل کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت، ان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور بھارتی مظالم کے خلاف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا دن ہے۔ یہ دن اس عہد کی تجدید کا موقع ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر مظلوم کشمیریوں کی آواز کو عالمی فورمز تک پہنچانے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی یاد دہانی کرانے کا ذریعہ ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض علاقائی نہیں بلکہ انسانی حقوق اور انصاف کا عالمی مسئلہ ہے۔ کشمیری عوام کی قربانیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ آزادی کی جدوجہد کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: متحدہ کی قراردادوں کشمیری عوام کے حق کشمیری عوام کی طاقت کے ذریعے پاکستان اور کی ا واز کو اور بھارت کہ کشمیر کشمیر کے عوام کو کے عوام کے ساتھ کو طاقت کے تحت کے لیے رہا ہے کے لئے
پڑھیں:
میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
سٹی 42: میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش ہورہی ہے ۔
میرپور آزاد کشمیر و گردونواح میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہورہی ہے ۔ بارش کے باعث شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا، موسم خوشگوار ہو گیا۔درجہ حرارت میں نمایاں کمی، شہریوں نے سکھ کا سانس لے لیا
منگلا، چیچیاں، جاتلاں، اسلام گڑھ، چکسواری اور ڈڈیال میں بھی بارش ہے ۔ تیز ہواؤں کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی بھی جاری ہے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
مری میں کالی گھٹائیں برس پڑیں، بارش سے موسم مزید خوشگوار ہو گیا۔بارش اور ٹھنڈی ہواؤں نے مری کے حسن کو چار چاند لگا دیئے۔
گرم علاقوں سے آئے سیاح خوشگوار موسم سے بھرپور لطف اندوز ہونے لگے۔ بارش کے بعد سیاحتی مقامات پر رونقیں بڑھ گئیں۔
کھاریاں میں گرج چمک اور تیز ہوا کیساتھ بارش ہے ۔ بجلی بند موسم خوشگوار ہو گیا۔
بارش سے گرمی کی شدت کم ہو گئی۔