نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمنٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیر کے لوگوں بشمول طلباء اور تاجروں کو انکی شناخت اور مذہبی وابستگی کیوجہ سے کشمیر سے باہر ہراساں کیا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر سے نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمنٹ سجاد کچلو نے راجیہ سبھا میں تقریر کرتے ہوئے مودی حکومت پر زور دیا کہ وہ 5 اگست 2019ء کے فیصلوں کو واپس لے اور ریاست جموں و کشمیر کو دوبارہ متحد کرے۔ انکے مطابق جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ اور سابق ریاست کو لداخ اور جموں و کشمیر کے دو حصوں میں بانٹنا ایک غلط اور غیر قانونی فیصلہ تھا جسے کالعدم قرار دیا جانا چاہیئے۔ بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی بجٹ تجاویز پر مبنی تحریک کے جواب میں بولتے ہوئے سجاد کچلو نے لداخ اور جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی، جب انکی تقریر پر ایوان میں موجود بعض بھاجپا اراکین سیخ پا ہوئے تو انہوں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انکی جموں و کشمیر میں مسلط کی گئی پالیسیاں ناکام ہوگئی ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کشمیر سے منتقل ہوئے ہندوؤں کو واپس کشمیر لانے کے وعدے کا کیا ہوا، پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر یا پی او کے کو ملک کے ساتھ ملانے کے وعدے کا کیا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں بی جے پی حکومت سے پوچھتا ہوں کہ کشمیری پنڈتوں کو واپس لانے اور پی او کے کو اپنے ساتھ ملانے کے آپ کے وعدے کہاں گئے، آپ نے صرف جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کی ناراضگی کمائی ہے۔ ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد آپ کی کامیابی کیا ہے۔

ماضی میں عمر عبداللہ کی حکومت میں وزیر کے طور پر خدمات انجام دینے والے سجاد کچلو نے کہا کہ ایک وقت آئے گا جب حکومت ہند 5 اگست 2019ء کو لئے گئے فیصلوں پر پچھتائے گی، کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوگی، 5 اگست کا فیصلہ غلط اور غیر قانونی تھا۔ اسے واپس لیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی ادارے اخبارات میں حقائق کی رپورٹنگ کے لیے صحافیوں کو طلب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا سکیورٹی ایجنسیوں نے ایک نئی دکان کھولی ہے، وہ صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین کو طلب کر رہے ہیں، اگر کوئی شخص چندہ دیتا ہے، تو اسے اس کے عطیات کے ارادے کی وضاحت کے لئے پولیس اسٹیشن میں بلایا جاتا ہے۔

سجاد کچلو نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیر کے لوگوں بشمول طلباء اور تاجروں کو ان کی شناخت اور مذہبی وابستگی کی وجہ سے کشمیر سے باہر ہراساں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی اجازت ملنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ملک کا ایسا ماحول بنایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی قسمت میں لکھا گیا ہے کہ وہ مار کھائیں اور بے عزت ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے اور ایک دن مرکزی حکومت کو اس بات پر پچھتاوا ہوگا کہ انہوں نے جموں و کشمیر اور لداخ کے ساتھ کیا کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کہ کشمیر

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا