سندھ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار، منعم ظفر پر مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-01-2
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت بوکھلا ہٹ کا شکار‘ احتجاجی ریلی اور جلسہ منعقد کرنے پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر اور دیگر کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ ایس ایچ او ٹپو سلطان تھانہ اظہر خان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔درج مقدمے الزام 57\26کے متن کے مطابق پولیس اہلکار معمول کے گشت پر مامور تھے کہ اس دوران شاہراہ فیصل پر صدر کی جانب جانیوالے ٹریک پر ایک سیاسی جماعت کے کارکنان احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر موجود تھے۔ مقدمے کے متن میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین کی تعداد 800 سے 1000 کے قریب تھی ، جن میں مردوں کیساتھ خواتین بھی شامل تھیں۔ پولیس کے مطابق احتجاجی ریلی کے باعث شاہراہ فیصل پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور ایمبولینسوں سمیت دیگر گاڑیوں کو روک دیا گیا، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔مقدمے کے متن میں مزید بتایا گیا ہے کہ احتجاجی ریلی کی قیادت امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کر رہے تھے جبکہ ان کیساتھ منظر عالم، راشد اور دیگر نامعلوم و صورت شناس افراد بھی موجودتھے۔ مظاہرین سڑک پر نعرے بازی بھی کر رہے تھے ۔ پولیس کے مطابق ریلی اور احتجاج کے باعث سڑکیں بلاک کرنے، لوگوں کو روکنے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔