قومی منصوبوں کی تحفظ کی ذمے داری سب پر عائد ہوتی ہے، فیاض عباسی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹھٹھہ(جسارت نیوز) ڈویژنل کمشنر حیدرآباد فیاض عباسی اور ڈی آئی جی حیدرآباد طارق رزاق دھاریجو کی صدارت میں ضلع میں قائم ونڈ پاور اور سولر انرجی منصوبوں کو درپیش سیکیورٹی مسائل اور کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) کے تحت جاری ترقیاتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے دربار ہال مکلی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت، ایس ایس پی ٹھٹھہ فاروق بجارانی، ونڈ پاور اور سولر منصوبوں کے مینیجرز و نمائندوں کے علاوہ انرجی ڈپارٹمنٹ کے افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈویزنل کمشنر فیاض عباسی نے کہا کہ ونڈ پاور کمپنیاں قومی معیشت میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور ان منصوبوں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیکیورٹی اور دیگر درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر میکینزم تشکیل دیا جائے تاکہ سیکیورٹی انتظامات مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور کمپنیوں کے درمیان کمیونیکیشن گیپ کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے منصوبہ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور کسی بھی مسئلے کی صورت میں براہِ راست انتظامیہ سے رجوع کریں، ضلعی دفاتر کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کو سی ایس آر کے تحت بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ڈویزنل کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ تمام منصوبوں کو آن گراؤنڈ مکمل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔ ڈی آئی جی حیدرآباد طارق رزاق دھاریجو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ونڈ اور سولر منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے مؤثر اور بہتر انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا اور اس حوالے سے پولیس اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ اجلاس میں ونڈ اور سولر انرجی منصوبوں کی انتظامیہ نے سیکیورٹی، چوری اور دیگر مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ تمام یونٹس سی ایس آر کے تحت سرگرم عمل ہیں اور مقامی افراد کو روزگار، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جو مقامی لوگوں کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کی جانب سے فوری اور مثبت ردعمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف انتظامیہ بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی مثبت پیغام جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور سولر انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.