WE News:
2026-06-03@01:14:37 GMT

نواز شریف بسنت کہاں منائیں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

 

موسم بہار کی آمد پر بسنت کا میلہ اور اس موقع پر پتنگ بازی لاہور کی صدیوں پرانی روایت ہے۔ تاہم 2005 میں پنجاب حکومت نے اس پر پابندی عائد کر دی تھی، جب متعدد حادثات میں لوگوں کے گلے کیمیکل ڈور سے کٹنے اور چھتوں سے گرنے سے اموات ہوئیں۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے یہ فیصلہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:بسنت پاکستان کامثبت، ترقی پسند اور ثقافتی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ہے، مریم نواز کی بسنت پریزنٹیشن

پابندی کے باوجود لوگ چھپ کر بسنت مناتے رہے، لیکن سرکاری سطح پر یہ تہوار 2007 کے بعد مکمل طور پر بند ہو گیا۔ اب 2026 میں مریم نواز شریف کی حکومت نے اسے بحال کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں حفاظتی اقدامات جیسے موٹر سائیکل پر پابندی، فری ٹرانسپورٹ، اور مخصوص چھتوں پر تقریبات شامل ہیں۔ یہ قدم لاہور کی ثقافتی شناخت کو بحال کرنے اور معیشت کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جہاں توقع ہے کہ 8 لاکھ سے زائد لوگ شرکت کریں گے اور 20 ارب روپے کی اقتصادی سرگرمیاں ہوں گی۔

Basant is loading! ????❤️ pic.

twitter.com/J4DB5x2Qzf

— PMLN Lahore (@LahorePMLN) February 2, 2026

بسنت کا فیسٹیول لاہور میں 6 فروری سے شروع ہوگا، جہاں گڈے ڈور کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور شہری پتنگوں اور ڈوروں کی خریداری میں مصروف ہیں۔ لاہور خصوصاً اندرون شہر میں بسنت منانے کے لیے چھتوں کی بکنگ جاری ہے، جبکہ باربی کیو پارٹیوں اور میوزک کے اہتمام سے جشن کی رونق دوبالا ہو رہی ہے۔ شہر رنگ برنگی لائٹس، پتنگوں کی دکانوں اور عوامی جوش و خروش سے خوشگوار فضا میں ڈوبا ہوا ہے۔

نواز شریف کی بسنت میں شرکت

بسنت کے حوالے سے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نواز شریف کہاں بسنت منائیں گے۔ جاتی عمرہ ذرائع کے مطابق نواز شریف کا 6 فروری کو کہیں جانے کا کوئی حتمی پلان ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے، کیونکہ اسی دن جاتی عمرہ میں میلاد کی تقریب بھی ہے۔ تاہم امکان ہے کہ وہ 7 یا 8 فروری کو اندرون شہر جا کر بسنت میں شریک ہوں، خصوصاً حویلی آصف جاہ میں ہونے والی تقریب میں، جہاں وہ روایتی طور پر پتنگیں اڑائیں گے۔

یہ تقریبات پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے 18 سال بعد بسنت کی بحالی کا حصہ ہیں، جو شہر کی ثقافتی روایات کو زندہ کرنے کی کوشش ہے۔ نواز شریف خاندان ہمیشہ سے بسنت کے شوقین رہا ہے اور ماضی میں بھی لاہور میں اس تہوار کو فروغ دیا گیا۔ 1990 اور 1997 کی دہائیوں میں نواز شریف نے بطور وزیراعظم لاہور میں بسنت کو سرکاری سرپرستی دی، اندرون شہر کی چھتوں پر پتنگ بازی کی اور عوام کے ساتھ جشن منایا۔

یہ بھی پڑھیں:بسنت: لاہور میں ڈرون سے نگرانی، چھتوں کی رجسٹریشن اور زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہمیشہ بسنت کو لاہور کی روح سمجھتے رہے ہیں اور اس کی بحالی پر خوش ہیں۔ تاہم اس بار تقریبات میں حفاظت کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ ماضی کے حادثات دہرائے نہ جائیں۔

Basant, Lahore and zinda Dil Lahori ❤️
A thread full of basant vids!! ???????? pic.twitter.com/7moxwQ2tcC

— IqRa (@Lostsoul_iQu) February 3, 2026

پنجاب حکومت نے بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے سخت ایس او پیز جاری کیے ہیں۔ اندرون شہر کی 6 خصوصی چھتوں پر وی آئی پی تقریبات ہوں گی، جہاں نواز شریف اور مریم نواز کی شرکت متوقع ہے۔ فری پبلک ٹرانسپورٹ، لائٹنگ اور سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہیں، اور عوام میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بسنت پنجاب حکومت جاتی عمرہ لاہور مریم نواز موسم بہار نواز شریف

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب حکومت جاتی عمرہ لاہور مریم نواز موسم بہار نواز شریف

پڑھیں:

برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔

وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔

پاکستان اے آئی میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے: شہباز شریف

نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف