Jasarat News:
2026-07-24@01:58:52 GMT

جنوری میں سیمنٹ کی فروخت میں 12.54 فیصد اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) جنوری 2026 کے دوران سیمنٹ کی مجموعی فروخت میں 12.54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جنوری 2026 میں سیمنٹ کی مجموعی فروخت 45لاکھ 38 ہزار ٹن رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی مہینے میں 40 لاکھ 32 ہزار ٹن تھیں۔آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2026 میں مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ کی فروخت 36 لاکھ ایک ہزار ٹن رہیں جبکہ جنوری 2025 میں یہ 34 لاکھ 50 ہزار ٹن تھیں، یوں سال بہ سال جنوری میں 4.

36 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح برآمدی فروخت میں نمایاں 61.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور برآمدی حجم جنوری 2025 کے 5 لاکھ 81 ہزار 691 ٹن سے بڑھ کر جنوری 2026 میں 9 لاکھ 37 ہزار 97 ٹن ہو گیا۔جنوری 2026 کے دوران شمالی علاقوں میں قائم سیمنٹ کارخانوں نے 29 لاکھ 50 ہزار ٹن سیمنٹ فروخت کیا، جو جنوری 2025 کے 28 لاکھ 18 ہزار ٹن کے مقابلے میں 4.67 فیصد زیادہ ہے۔ جنوبی علاقوں میں قائم کارخانوں کی فروخت جنوری 2026 میں 15 لاکھ 90 ہزار ٹن رہیں، جو گزشتہ سال اسی مہینے کے 12 لاکھ 14 ہزار ٹن کے مقابلے میں 30.82 فیصد زیادہ ہیں۔جنوری 2026 میں شمالی علاقوں کے سیمنٹ کارخانوں نے مقامی منڈی میں 29 لاکھ 50 ہزار ٹن سیمنٹ فراہم کیا، جو جنوری 2025 کے 27 لاکھ 59 ہزار ٹن کے مقابلے میں 6.93 فیصد زیادہ ہے۔ جبکہ جنوبی علاقوں کے کارخانوں نے مقامی منڈی میں 6 لاکھ 51 ہزار 89 ٹن سیمنٹ فروخت کیا، جو جنوری 2025 کے 6 لاکھ 91 ہزار 727 ٹن کے مقابلے میں 5.87 فیصد کم ہے۔جنوری 2026 کے دوران شمالی علاقوں سے کوئی برآمدات نہیں ہوئیں۔ تاہم جنوبی علاقوں سے برآمدات میں 79.41 فیصد اضافہ ہوا اور یہ حجم جنوری 2025 کے 5 لاکھ 22 ہزار 336 ٹن سے بڑھ کر جنوری 2026 میں 9 لاکھ 37 ہزار 97 ٹن ہو گیا۔مالی سال کے ابتدائی سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران سیمنٹ کی مجموعی فروخت (مقامی و برآمدی) 3 کروڑ 05 لاکھ 83 ہزار ٹن رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 2 کروڑ 76 لاکھ 56 ہزار ٹن کے مقابلے میں 10.58 فیصد زیادہ ہیں۔ اس عرصے میں مقامی فروخت 2 کروڑ 50 لاکھ 15 ہزار ٹن رہیں جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 2 کروڑ 22 لاکھ 64 ہزار ٹن تھیں، یوں 12.36 فیصد کا اضافہ ہوا۔ برآمدی ترسیلات میں 3.26 فیصد اضافہ ہوا اور حجم 53 لاکھ 92 ہزار ٹن سے بڑھ کر 55 لاکھ 68 ہزار ٹن ہو گیا۔جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے دوران شمالی علاقوں کے سیمنٹ کارخانوں نے مقامی منڈی میں 2 کروڑ 08 لاکھ 95 ہزار ٹن سیمنٹ فروخت کیا، جو جولائی 2024 سے جنوری 2025 کے دوران 1 کروڑ 83 لاکھ 82 ہزار ٹن کے مقابلے میں 13.67 فیصد زیادہ ہے۔ اسی عرصے میں شمالی علاقوں سے برآمدات 23.13 فیصد کم ہو کر 8 لاکھ 08 ہزار 506 ٹن رہ گئیں جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں برآمدات 10 لاکھ 51 ہزار 768 ٹن تھیں۔ شمالی علاقوں کی مجموعی فروخت میں 11.68 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2 کروڑ 17 لاکھ 04 ہزار ٹن تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 1 کروڑ 94 لاکھ 34 ہزار ٹن تھیں۔جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے دوران جنوبی علاقوں کے سیمنٹ کارخانوں کی مقامی فروخت 41 لاکھ 20 ہزار ٹن رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 38 لاکھ 82 ہزار ٹن کے مقابلے میں 6.12 فیصد زیادہ ہیں۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہزار ٹن کے مقابلے میں جنوری 2026 کے دوران کی مجموعی فروخت سیمنٹ کارخانوں فیصد اضافہ ہوا گزشتہ سال اسی جنوبی علاقوں شمالی علاقوں ہزار ٹن تھیں ہزار ٹن رہیں کارخانوں نے جنوری 2025 کے مالی سال کے فیصد زیادہ علاقوں کے برا مدات سیمنٹ کی جو گزشتہ

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف