عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سائنسدانوں کی پہلی جامع عالمی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 70 لاکھ افراد کو کینسر سے بچایا جا سکتا ہے کیونکہ کینسر کے ایک بڑے حصے کی وجوہات قابل تدارک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تھائرائیڈ کینسر: خواتین میں 3 گنا زیادہ خطرہ، محفوظ کیسے رہیں؟

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق 37 فیصد کینسر ایسے عوامل کی وجہ سے ہوتے ہیں جن سے بچاؤ ممکن ہے جن میں انفیکشنز، غیر صحت بخش طرزِ زندگی اور ماحولیاتی آلودگی شامل ہیں۔

ان میں ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) سے ہونے والا سروائیکل کینسر شامل ہے جس سے ویکسینیشن کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے جبکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے متعدد کینسر بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ کینسر عمر بڑھنے کے ساتھ ڈی این اے میں ہونے والی قدرتی تبدیلیوں یا موروثی وجوہات کے باعث ناگزیر ہوتے ہیں، تاہم تقریباً ہر 10 میں سے 4 کینسر قابل تدارک ہیں جو ایک نمایاں اور حیران کن تعداد ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے کینسر کے خطرے میں اضافے کے 30 قابل تدارک عوامل کا تجزیہ کیا۔

ان عوامل میں تمباکو نوشی، الٹرا وائلٹ شعاعیں، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور فضائی آلودگی شامل ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر کینسر کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔

رپورٹ میں کینسر پیدا کرنے والے 9 انفیکشنز کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں ایچ پی وی، ہیپاٹائٹس وائرس (جگر کے کینسر کا سبب) اور معدے کا بیکٹیریا شامل ہے۔

تحقیق کے لیے سنہ 2022 میں سامنے آنے والے کینسر کیسز اور اس سے ایک دہائی قبل موجود خطرے کے عوامل کا ڈیٹا استعمال کیا گیا جو دنیا کے 185 ممالک پر محیط تھا۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کینسر کے ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد کیسز میں سب سے بڑی وجوہات یہ رہیں:

تمباکو نوشی: 33 لاکھ کیسز

انفیکشنز: 23 لاکھ کیسز

شراب نوشی: 7 لاکھ کیسز

تحقیق میں صنفی فرق

تحقیق میں صنفی فرق بھی سامنے آیا ہے جہاں مردوں میں 45 فیصد جبکہ خواتین میں 30 فیصد کینسر قابل تدارک قرار دیے گئے جس کی ایک بڑی وجہ مردوں میں تمباکو نوشی کی زیادہ شرح ہے۔

یورپ میں خواتین کے لیے ان کینسزر (قابل تدارک) کی بڑی وجوہات میں تمباکو نوشی، انفیکشنز اور موٹاپا شامل ہیں جبکہ سب صحارا افریقہ میں خواتین میں تقریباً 80 فیصد قابل تدارک کینسر انفیکشنز کے باعث ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر سے بچاؤ کے لیے اقدامات ہر ملک اور خطے کی صورتحال کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہے۔

آئی اے آر سی کے ڈپٹی ہیڈ ڈاکٹر ازابیل سورجوماٹارام کے مطابق یہ تحقیق قابلِ تدارک کینسر پر پہلی جامع عالمی تشخیص ہے، جو رویوں، ماحول اور پیشہ ورانہ خطرات کے ساتھ ساتھ انفیکشنز کو بھی شامل کرتی ہے۔

سروائیکل، معدے اور پھیپھڑوں کا کینسر

ڈبلیو ایچ او کے ماہر ڈاکٹر آندرے اِل باوی نے رپورٹ کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو کنٹرول اورایچ پی وی ویکسینیشن جیسی پالیسیوں کے ذریعے کینسر کے کیسز میں نمایاں کمی ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقصد یہ ہے کہ قابل تدارک کینسر کی شرح کو وقت کے ساتھ صفر کے قریب لایا جائے۔

رپورٹ کے مطابق پھیپھڑوں کا کینسر، معدے کا کینسر اور سروائیکل کینسر دنیا بھر میں قابل تدارک کینسر کے تقریباً نصف کیسز پر مشتمل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈبلیو ایچ او عالمی تحقیق قابل تدارک کینسر کینسر پر پہلی عالمی جامع تحقیق.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈبلیو ایچ او عالمی تحقیق قابل تدارک کینسر کینسر پر پہلی عالمی جامع تحقیق قابل تدارک کینسر قابل تدارک کی ڈبلیو ایچ او تمباکو نوشی شامل ہیں کینسر کے کے مطابق ممکن ہے کے لیے

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم