دہلی گیٹ کی چھتوں کے کرایے آسمان سے باتیں کرنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: بسنت کے تہوار کے موقع پر دہلی گیٹ اور اندرونِ شہر کی چھتیں لوگوں کے جشن منانے کی جگہ بن گئی ہیں۔ شہر کی معروف تاریخی عمارات کی چھتیں بسنت کے استقبال کیلئے سجائی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے چھتوں کے کرایے بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دو سے تین مرلے کی چھت کا کرایہ اب تین لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ پانچ مرلے کی چھت کے کرایے 5 سے 7 لاکھ روپے تک مقرر کیے گئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی سال بعد بسنت کا تہوار واپس آیا ہے، اس لیے وہ اسے بھرپور انداز میں منانا چاہتے ہیں اور بسنت کو کسی صورت ضائع نہیں کریں گے۔
مریم اورنگزیب کا رات گئےاندرونِ شہر کا دورہ، بسنت انتظامات کا جائزہ لیا
بسنت کے دن شہری اپنی دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ چھتوں پر جمع ہو کر پتنگ بازی، موسیقی اور روایتی کھانوں کے ساتھ جشن منائیں گے۔ اس دوران بسنت کے رنگ دوبارہ شہر کی فضاؤں میں چھا جائیں گے اور لاہور کے شہری اس تہوار کو بھرپور انداز میں منانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بسنت کے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔