کراچی میں موبائل چوری کے دوران قتل؛ مجرمان کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
کراچی میں موبائل چوری کے دوران قتل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مجرمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ یہ واقعہ 2011 کا ہے اور اس کی ایف آئی آر دو دن بعد نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعہ کے وقت پولیس موقع پر پہنچی تھی لیکن ایف آئی آر میں موبائل چوری کا ذکر تک موجود نہیں تھا، بعد میں مقتولین کی جانب سے کیس کو موبائل چوری کا رنگ دیا گیا۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ سزائے موت کا معاملہ ہے اور اگر کسی کو ناحق سزا ہوئی تو اس کی ذمہ داری روز قیامت وکیل پر ہوگی۔ عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ بریت چاہتے ہیں یا عمر قید، جبکہ شناخت پریڈ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجرمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موبائل چوری سزائے موت کے دوران
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔