میری طرف سے چالان مکمل کرکے حکام کے سپرد کردیاگیا،تفتیشی افسر کا فارن فنڈنگ کیس میں عدالت میں بیان
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)فارن فنڈنگ کیس میں تفتیشی افسر نے عدالت میں بیان جمع کرا دیا، تفتیشی افسر نے کہاکہ میری طرف سے چالان مکمل کرکے حکام کے سپرد کردیاگیا، ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل کی جانب سے قانونی طریقہ کار جلد مکمل کرلیا جائے گا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی ا ور دیگر کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی،ایف آئی اے کی جانب سے کیس کا چالان مکمل کرلیاگیا، بینکنگ کورٹ کے جج عبدالغفور کاکڑ نے سماعت کی۔
فارن فنڈنگ کیس کے تفتیشی افسر نے عدالت میں بیان دیدیا، تفتیشی افسر نے کہاکہ میری طرف سے چالان مکمل کرکے حکام کے سپرد کردیاگیا، ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل کی جانب سے قانونی طریقہ کار جلد مکمل کرلیا جائے گا، چند روز میں طریقہ کار مکمل ہونے پر چالان باقاعدہ عدالت میں جمع ہو جائے گا، عدالت نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 10فروری تک ملتوی کردی ۔
پشاور: بلدیاتی نمائندگان کا 11 فروری کو احتجاجی دھرنے کا فیصلہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فارن فنڈنگ کیس تفتیشی افسر نے چالان مکمل عدالت میں
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔