data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں امیگریشن ٹیم کی غیر انسانی کارروائیوں کے باعث وفاقی محکموں کو فنڈنگ کے لالے پڑ گئے۔ امریکا میں جاری جزوی شٹ ڈاؤن تیسرے روز بھی جاری رہا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کئی وفاقی محکموں کی فنڈنگ ختم ہو گئی ہے اور اخراجات کا بل منظور کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ منی سوٹا میں چھاپوں کے دوران 2 شہریوں کی ہلاکت پر کانگریس میں اختلافات ہیں۔ ڈیموکریٹس نے اخراجات بل پر سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے اور موقف پیش کیا ہے کہ انہوں نے شہریوں کے خلاف غیر قانونی چھاپے روکنے کے لیے فنڈنگ روکی ہے۔ ڈیموکریٹس کا مطالبہ ہے کہ امیگریشن اصلاحات کی جائیں۔ ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریپبلکنز بل منظور کروائیں، طویل شٹ ڈاؤن نقصان دہ ہے۔ سینیٹ کے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز نے جمعرات کے روز اخراجات سے متعلق 5بلوں کے ایک پیکیج پر اتفاق کیا تھا، تاہم ہوم لینڈ سیکورٹی کے لیے پورے مالی سال کی فنڈنگ سے متعلق چھٹا بل اس پیکیج سے نکال دیا گیا۔ اس کی بجائے سینیٹ نے ڈی ایچ ایس کے لیے 2ہفتوں کی عارضی فنڈنگ کی منظوری دی، تاکہ قانون سازوں کو اس کے طویل المدتی بجٹ پر اختلافات حل کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔ ڈیموکریٹس امیگریشن کے نفاذ کے نظام میں تبدیلیاں چاہتے ہیں، جن میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ اہلکار باڈی کیمرے پہنیں جو آن ہوں اور ماسک نہ پہنیں۔ سینیٹ سے منظور ہونے والا پیکیج اب ایوانِ نمائندگان کی منظوری کا محتاج ہے، جس کے بعد اسے دستخط کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجا جائے گا۔ سینیٹ کے اس پیکیج میں وزارتِ دفاع، وزارتِ صحت، محکمہ خزانہ، وفاقی عدالتی نظام اور دیگر اداروں کے لیے 30 ستمبر کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام تک فنڈنگ شامل ہے۔ تاہم ان وفاقی اداروں کے لیے فنڈنگ ہفتے کی رات 12بجے ختم ہو گئی، جس کے نتیجے میں جزوی شٹ ڈاؤن ہو گیا، کیوں کہ ایوانِ نمائندگان نے تاحال اس کی منظوری نہیں دی۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن