اسلام آباد یونائیٹڈ کی ریٹین کیے جانے والے کھلاڑیوں سے معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن کے لیے اسلام آباد یونائیٹڈ ریٹین کیے جانے والے کھلاڑیوں کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات جاری کرنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔
اسلام اباد یونائیٹڈ نے کپتان شاداب خان کو سات کروڑ روپے میں ریٹین کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہیں پلاٹنیم کیٹیگری میں یہ معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ نے سلور کیٹیگری میں اندریس غوث کو ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے میں ریٹین کیا ہے۔
گولڈ کیٹیگری میں سلمان ارشاد کو ایک کروڑ بیس لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔
???? Here you go!!
First Auction - Here are the retention amounts in PKR@76Shadabkhan - 7.
Stay Tuned For More Big News!! ????#UnitedWeWin #SherusRetained #DimaghSe #NewEra pic.twitter.com/7CqhW9AQ1T — Islamabad United (@IsbUnited) February 4, 2026
ذرائع کے مطابق پی ایس ایل منتظمین کی جانب سے کسی بھی کیٹیگری کے لیے زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کوئی بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔
یہ فرنچائزز پر منحصر ہے کہ وہ کس قیمت میں کھلاڑی سے معاہدہ کرتے ہیں تاہم انہیں مجموعی بجٹ کے اندر ہی اپنی ٹیم منتخب کرنی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔