رجب بٹ اور ندیم مبارک کی درخواست پر عدالت کا سیکرٹری داخلہ کو نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ٹک ٹاکر ندیم مبارک اور رجب بٹ کی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری داخلہ ایف آئی اے، ڈی جی امیگریشن کونوٹس جاری کردیے۔
ٹک ٹاکر ندیم مبارک اور رجب بٹ کی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا سیکرٹری داخلہ ایف آئی اے، ڈی جی امیگریشن کونوٹس جاری، جواب طلب،درخواستگزاران کی جانب سے بیرسٹر راجہ قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھرایڈووکیٹ عدالت پیش https://t.
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹک ٹاکر ندیم مبارک عرف نانی والا اور رجب بٹ کی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
جسٹس محمد اعظم خان نے رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواستگزاران کی جانب سے بیرسٹر راجہ قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھرایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری داخلہ ایف آئی اے، و دیگر فریقین کونوٹس جاری جاری کردیے، عدالت نے ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو بھی نوٹس جاری کردیا۔
عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائی کورٹ سیکرٹری داخلہ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔