سونے کی قیمت میں اضافے کا رجحان، فی تولہ سونا مزید کتنا مہنگا ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقامی صرافہ مارکیٹ میں آج فی تولہ سونے کی قیمت میں 14،800 روپے کا زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد سونا مقامی سطح پر تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے تیسرے یعنی بدھ کے روز ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونا مزید مہنگا ہو گیا، جس کے بعد سونے کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز ملک میں 24 قیراط کے حامل ایک تولہ سونا 14،800 روپے مہنگا ہوا ہے، جس کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 29 ہزار 162 روپے ہو گئی ہے، یہ اضافہ ایک ہی دن میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے، جس سے عام صارفین کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 12,689 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 53 ہزار 671 روپے ہو گئی ہے، سونے کے نرخوں میں اس مسلسل اضافے نے شادیوں کے موسم میں زیورات کی خریداری کرنے والی خواتین اور خاندانوں کی پریشانی میں اضافہ کردیا ہے جبکہ مارکیٹ کے کئی دکانداروں کا کہنا ہے کہ گاہکوں کی آمد پہلے ہی کم تھی اور
اب نئی قیمتیں صورتحال کو مزید متاثر کریں گی۔
دوسری جانب بین اقوامی مارکیٹ سونے کی قیمت 148 ڈالر سے برھ کر 5,064 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔
مقامی صرافہ مارکیٹوں میں گزشتہ دو روز کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 38 ہزار 800 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت دو روز کے دوران 388 ڈالر بڑھ گئی ہے۔
پاکستان میں چاندی کی فی تولہ قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد چاندی کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، فی تولہ چاندی کی قیمت 109 روپے کے اضافے کے بعد 9 ہزار 255 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 93 روپے بڑھ کر 7 ہزار 655 روپے ہو گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت جس کے بعد ہو گئی ہے چاندی کی فی تولہ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔