وفاق اور خیبر پختونخوا میں کن معاملات پر اختلافات ہیں اور کیا وہ وزیراعظم اور سہیل آفریدی کی ملاقات سے ختم ہوجائیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور ن لیگ کی وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات موجود ہیں، لیکن سیاست کے علاوہ بھی وفاق اور صوبے کے درمیان کئی انتظامی اور حکومتی معمولات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان اختلافات اور دوریاں صرف موجودہ دور تک محدود نہیں بلکہ کافی عرصے سے معاشی اور دیگر انتظامی معاملات پر تناؤ رہا ہے۔ ان اختلافات میں وفاق کے ذمے صوبے کے بقایاجات، بجلی کے خالص منافع کی عدم ادائیگی، بجلی کی تقسیم، گیس کی فراہمی، سیکیورٹی پالیسی، افغان امور اور اعلیٰ بیوروکریسی میں تبادلے شامل ہیں۔
شہباز شریف حکومت اور سہیل آفریدی کے اختلافاتسہیل آفریدی وزیراعلیٰ بننے کے بعد سے ہی وفاقی حکومت کے خلاف سیاسی بیانات دے رہے ہیں، تاہم شدید سیاسی اختلافات کے باوجود گزشتہ روز انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس سے قبل علی امین گنڈاپور بھی وزیراعظم سے ملاقات کر چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پہلی اہم ملاقات، کیا کچھ زیر بحث آیا؟
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، جو اس ملاقات میں موجود تھے، نے ملاقات کو خوشگوار قرار دیا۔ ان کے مطابق ملاقات کے آغاز میں ہی وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن حکومتی ذمہ داریاں الگ ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق صوبائی اور وفاقی حکومت کے اختلافات سیاسی ہیں، جبکہ ریاستی معمولات میں تعاون ضروری ہے، جس کی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔
وفاق کے ذمے صوبے کے واجب الادا فنڈزخیبر پختونخوا حکومت کا ابتدا سے موقف ہے کہ وفاق مختلف مدات میں صوبے کے بقایاجات ادا نہیں کر رہا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آنے کے بعد اس موقف میں مزید شدت آئی ہے۔
سہیل آفریدی کے مطابق وفاق اس وقت خیبر پختونخوا کا 4,758 ارب روپے کا مقروض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاق میں مختلف سیاسی جماعت کی حکومت ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخوا کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا، جبکہ پنجاب کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا قبائل کے ہمراہ اسلام آباد مارچ کا اعلان، مقصد کیا ہے؟
ان کے مطابق سیاسی اختلافات کی بنیاد پر صوبے کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، اور اگر بقایاجات ادا کر دیے جائیں تو صوبے کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔
گیس اور بجلی کی تقسیمخیبر پختونخوا حکومت کا وفاق سے نیشنل گرڈ سے بجلی کی تقسیم پر اختلاف ہے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ صوبے میں لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ وفاق ہے، جو نیشنل گرڈ سے صوبے کی ضرورت کے مطابق بجلی فراہم نہیں کر رہا، جس کے باعث بعض علاقوں میں 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سب سے سستی بجلی خیبر پختونخوا میں پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح سردیوں میں گیس کا بھی سنگین مسئلہ درپیش رہتا ہے، حالانکہ صوبے میں گیس پیدا ہوتی ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی نہیں کی جاتی۔
وفاق کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں بجلی چوری ہو رہی ہے اور بلوں کی ادائیگی بھی مکمل نہیں کی جا رہی۔
بجلی کے خالص منافع کی عدم ادائیگیخیبر پختونخوا کے مطابق وفاق بجلی کے خالص منافع کی مد میں بھی صوبے کو بقایاجات ادا نہیں کر رہا، جو صوبے کے ساتھ ناانصافی ہے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وفاق نہ تو صوبے کو بجلی فراہم کر رہا ہے اور نہ ہی خالص منافع میں صوبے کا حق ادا کیا جا رہا ہے۔ صوبہ متعدد بار نیشنل گرڈ کو بجلی بند کرنے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔
سیکیورٹی پالیسی پر اختلافاتسہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ سہیل آفریدی وفاق اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بند کمروں کے فیصلے قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب وفاق، سہیل آفریدی کو امن و امان کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتا ہے۔ سہیل آفریدی کالعدم گروپوں سے مذاکرات کے حامی ہیں، جبکہ ریاستی پالیسی کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، جس پر دونوں کے درمیان اختلاف موجود ہے۔
اسی تناظر میں سہیل آفریدی قبائل کے ہمراہ اسلام آباد مارچ کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔
افغانستان سے مذاکراتخیبر پختونخوا حکومت صوبے میں امن و امان کی بہتری اور افغانستان سے دہشتگردی کو روکنے کے لیے جرگوں کے ذریعے افغانستان سے مذاکرات کی خواہاں ہے، اور کئی بار افغانستان سے براہِ راست رابطوں کا اعلان بھی کر چکی ہے۔
کیا شہباز شریف سہیل آفریدی ملاقات کے بعد اختلافات ختم ہوں گے؟ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم کے ساتھ صوبے کے مسائل پر بات ہوئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے مطابق سہیل آفریدی نے امن و امان کے معاملے پر وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
حکومتی حکام اور تجزیہ کار اس ملاقات کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق اس ملاقات سے کئی انتظامی معاملات بہتر ہوں گے، اور وزیراعلیٰ کی ایپکس کمیٹی میٹنگ میں شرکت کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔
تاہم پشاور کے سینیئر صحافی عارف حیات کو معمولات میں بڑی بہتری کی توقع نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبہ دونوں ریاستی معمولات پر سیاست کر رہے ہیں اور سیاسی بیانیہ بنا رہے ہیں، جس سے معاملات خراب ہو رہے ہیں۔
عارف حیات کے مطابق، ‘اندرونی طور پر ملکی سلامتی اور دہشتگردی کے معاملے پر اتفاق موجود ہے، لیکن سیاسی طور پر کارکنوں کے سامنے الگ بیانیہ پیش کیا جاتا ہے۔ سہیل آفریدی آپریشن کے خلاف نظر آتے ہیں، جبکہ اندرونی بریفنگ میں انہیں اصل حقائق سے آگاہ کیا جاتا ہے، جو اس کے برعکس ہوتے ہیں۔’
ان کے مطابق کچھ معمولات بہتر ہونے کے امکانات موجود ہیں، وفاق بقایاجات پر بات کرنے کو تیار ہے اور امن و امان پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے، لیکن جو کچھ پی ٹی آئی حکومت چاہتی ہے وہ شاید ممکن نہ ہو۔
عارف حیات نے مزید بتایا کہ جب وفاق میں عمران خان کی حکومت تھی تب بھی بقایاجات موجود تھے اور اس وقت بھی ادا نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق صوبہ وفاق کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا، اور سہیل آفریدی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پہلی ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
‘ایک طرف سہیل آفریدی احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں، دوسری جانب وفاق کو مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروا رہے ہیں، جو ایک تضاد ہے۔’
پشاور کے نوجوان صحافی شہاب الرحمان کے مطابق یہ ملاقات خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سہیل آفریدی واقعی انتظامی معاملات بہتر کرنا چاہتے ہیں تو یہ صوبے کے مفاد میں ہے۔
تاہم شہاب الرحمان کو خدشہ ہے کہ پی ٹی آئی میں اس کا غلط تاثر لیا جا سکتا ہے، جس سے سہیل آفریدی کی کرسی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جیسا کہ علی امین گنڈاپور کے ساتھ ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبے کے بہتر تعلقات سے خیبر پختونخوا میں بہتری آ سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبرپختونخوا سہیل آفریدی وفاقی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں کا کہنا ہے کہ وفاق ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات سہیل آفریدی کے افغانستان سے وفاقی حکومت پر اختلافات ان کے مطابق خالص منافع شہباز شریف کے درمیان حکومت کا وفاق اور وفاق کے صوبے کے کے ساتھ رہے ہیں نہیں کر کے بعد کر رہا
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار