4400 ارب سے زائد واجب الادا، وفاق سوتیلی ماں والا سلوک کر رہا ہے: سہیل آفریدی، کے پی پسماندہ، آپ نے کیا دیا: طلبہ کے سوالات
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پشاور (نوائے وقت رپورٹ+ بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا پاکستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں، معاشی اور امن و امان کی صورتحال سمیت ہر سمت حالات خراب ہیں، نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور انہوں نے ہی حالات کو سنبھالنا ہے، ہمارے نوجوانوں کو خواب بڑے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا ہم نے سب پر ایک جیسا قانون لاگو کرنا ہے، جوخود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے اس کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی جھنڈا نہیں لہرا سکتی، ہم کارنر میٹنگ نہیں کر سکتے، پنجاب کے ایم پی اے اور ایم این اے نے بتایا کہ ان کی گاڑیوں کے نمبرز ٹیمپر ہو رہے ہیں، ان کے گارڈز کی بندوقیں لیکر ان کے نمبرز ٹیمپر کیے جاتے ہیں۔ وفاق کے ذمے کے پی کے 4 ہزار 400 ارب سے زیادہ روپے واجب الادا ہیں، قبائلی اضلاع کو ضم کیا گیا لیکن معاشی حق نہیں دے رہے ہیں، آپ کے خون پسینے کا پیسا، ٹیکس کا پیسا کیوں چوری ہو۔ ان کا کہنا تھا دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نیت ٹھیک کرنا چاہیے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سب کو ایک ہونا ہو گا۔ دوسری جانب سہیل آفریدی ایک طالبہ کی جانب سے حکومتی کارکردگی کے حوالے پوچھے گئے سخت سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور طالبہ پر سیاسی جماعت سے تعلق کا الزام لگا دیا۔ پشاور میں ینگ لیڈرز پارلیمنٹیرین کنونشن میں وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی سے طالبہ کا سوال جواب سیشن ہوا۔ طالبہ نے سوال کیا کہ جعلی حکومتیں ترقی کر رہی ہیں، کے پی کے اصلی حکومت میں بھی13 سال سے کیوں پسماندہ ہو رہا ہے؟۔ طالبہ نے سہیل آفریدی سے کہا کہ آپ ادھر ادھرکی باتیں کررہے ہیں، بتائیں صوبے کوکیا دیا؟۔ جتنی بھی ترقی ہوئی ہے، ایم پی اے اور ایم این اے کے گھروں میں ہوئی، صوبے میں جو کرپشن ہوئی ہے، اس کا آپ نے کیاکیا؟۔ دوسرے صوبوں سے ہمارے صوبے کا موازنہ کیا جائے کہ ہم نے کتنی ترقی کی ہے؟۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔