ایک سال میں پنجاب کی تمام تحصیلوں میں گرین بس سروس شروع ہوگی، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
راجن پور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے راجن پور میں الیکٹرک گرین بس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ راجن پور دہائیوں سے پسماندہ ضرور رہا ہے مگر اب یہ پسماندگی ختم ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک راجن پور کے تمام روٹس پر بسیں نہیں چلیں گی وہ چین سے نہیں بیٹھیں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ راجن پور میں گزشتہ دو سال کے دوران 12 ارب روپے کی لاگت سے تقریباً 72 سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں، جو خطے کی ترقی کی واضح مثال ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کی سڑکوں پر چلنے والی جدید الیکٹرک گرین بسیں اب راجن پور کی سڑکوں پر بھی دوڑیں گی۔
مریم نواز نے کہا کہ ایک سال کے اندر پنجاب کی تمام تحصیلوں میں گرین بس سروس شروع کی جائے گی، تاکہ شہریوں کو معیاری، باعزت اور سستی سفری سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پنجاب میں 500 گرین بسیں آ چکی ہیں جبکہ مزید 1100 بسیں جلد شامل کی جائیں گی اور سال 2026 میں مزید 1500 گرین بسیں متعارف کروائی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بسوں کے معیار اور کرایوں میں عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے اور جدید بس اسٹاپس تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ خواتین، بزرگوں، طلبہ اور خصوصی افراد کو آرام دہ انتظار کی سہولت مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ راجن پور پنجاب کا آخری ضلع ضرور ہے لیکن مریم نواز اور نواز شریف کے دل سے دور نہیں بلکہ بہت قریب ہے۔ خطاب کے دوران انہوں نے بلوچ ثقافت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بلوچی پگڑی، چادر اور ٹوپی کو سلام پیش کیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پر صرف لاہور میں کام کرنے کا الزام غلط ہے اور راجن پور جیسے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت پورے پنجاب میں یکساں ترقی چاہتی ہے۔
انہوں نے ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اور وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں باعزت اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ کا مضبوط نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے تاکہ عام شہری کو جدید سفری سہولت میسر آ سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ راجن پور انہوں نے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔