چیٹ جی پی ٹی صارفین کو جیمنائی کی جانب کھینچنے کیلئے گوگل کا نیا فیچر
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
گوگل کی جانب سے جیمنائی کے لیے امپورٹ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹس نامی فیچر کی آزمائش کی جا رہی ہے۔
بنیادی طور پر یہ فیچر چیٹ جی پی ٹی صارفین کو مستقل طور پر جیمنائی میں منتقل کرنے کی کوشش ہے۔
اس فیچر سے صارفین اپنی چیٹ جی پی ٹی یا کسی بھی اے آئی چیٹ بوٹ کی مکمل چیٹ ہسٹری کو جیمنائی میں منتقل کرسکیں گے۔
اس طرح وہ جیمنائی میں اپنے پراجیکٹس، ترجیحات اور دیگر سے محروم نہیں ہوں گے۔
صارفین کے لیے چیٹ جی پی ٹی یا دیگر سے جیمنائی اے آئی پلیٹ فارم پر منتقل ہونا آسان ہو جائے گا۔
اے آئی چیٹ بوٹس عموماً کسی صارف کی پرانی چیٹس کو مدنظر رکھ کر اپنے جوابات فراہم کرتے ہیں۔
کسی چیٹ بوٹ کا طویل عرصے تک استعمال پرسنلائزیشن کا عمل ممکن بناتا ہے اور ایسا کسی نئے چیٹ بوٹ میں منتقل ہونے پر مشکل ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گوگل کی جانب سے ابھی اس فیچر کی آزمائش کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد چیٹ جی پی ٹی صارفین کو آسانی سے جیمنائی میں منتقل ہونے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
یہ فیچر ابھی جیمنائی کے ویب ورژن کے بیٹا (beta) آپشن میں دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ بہت جلد اسے تمام افراد کے لیے متعارف کرایا جاسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ فیچر ابھی چیٹ جی پی ٹی، گروک اور کلاؤڈی پر کام کر رہا ہے۔
صارفین کو اوریجنل سروس سے اپنی چیٹ ڈیٹا کو ڈاؤن لوڈ کرنا ہوتا ہے اور پھر اس فائل کو جیمنائی میں اپ لوڈ کرنا ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی صارفین کو اے ا ئی
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔