ڈیوس میں ٹرمپ کی فرعونیت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: امریکی صدر نے سوئٹزرلینڈ کے عوام اور حکومت کی توہین کی اور ان کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا۔ اسی طرح اس نے ڈنمارک کی عوام کو نمک حرام قرار دیا اور پورے یورپ کی تذلیل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ٹرمپ نے تمام یورپی عوام اور حکمرانوں کو یہ طعنہ بھی دیا کہ اگر امریکہ دوسری جنگ عظیم میں ان کی مدد نہ کرتا تو وہ اس وقت جرمنی یا جاپانی زبان میں بات کر رہے ہوتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حتی کینیڈا کو بھی نہیں بخشا اور کینیڈا کی عوام اور حکومت کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو کینیڈا نام کی کوئی ریاست بھی وجود نہ رکھتی۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں گرین لینڈ کے مسئلے کا بھی ذکر کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ "ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد گرین لینڈ، ڈنمارک کو واپس دے دیا تھا۔" تحریر: علی احمدی
اس سال (2026ء) سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر اس کے فرعونی طرز عمل کی بھرپور عکاسی کرنے والی تقریروں میں سے ایک تھی۔ اس نے اپنی تقریر میں یورپ کی بے مثال تذلیل کی۔ ڈیوس اجلاس میں ٹرمپ نے ایک گھاگھ ڈکٹیٹر کی طرح پورے یورپ کا مذاق اڑایا اور اس کی تحقیر کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک سے لے کر سوئٹزرلینڈ تک، اپنے خاص اور البتہ تمسخر آمیز طرز عمل کے ذریعے میزبان کی دل بھر کر تذلیل بھی کی اور اسے طرح طرح کی دھمکیوں سے بھی نوازا۔ امریکی صدر نے یورپی حکام کو مخاطب قرار دے کر کہا: "اگر ہم امریکی نہ ہوتے تو تم یورپی اس وقت یا تو جرمن یا پھر جاپانی زبان میں بات کر رہے ہوتے۔" یہ جملہ درحقیقت ایک تاریخی حقیقت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
امریکی صدر نے اس جملے میں یورپی حکام کو یہ طعنہ دیا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس جنگ کے خاتمے اور مغربی ممالک کی فتح میں امریکہ نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا اور اگر وہ یہ کردار ادا نہ کرتا تو مغربی ممالک کو اس جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑ جاتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس پہنچے تو حکام اور عوام، دونوں کی جانب سے ان کا بہت سردمہری سے استقبال کیا گیا۔ اس سرد استقبال کے ساتھ ساتھ ڈیوس کے عوام کی جانب سے امریکی صدر کے خلاف احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئی تھیں۔ مزید برآں، ڈیوس کے ایک پہاڑ کے دامن میں ایک اہم وال چاکنگ بھی کی گئی تھی جو صحافیوں کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ یہ وال چاکنگ ورلڈ اکنامک فورم میں ٹرمپ کی طے شدہ تقریر سے چند گھنٹے قبل ظاہر ہوئی۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں اس پہاڑ کے دامن میں "NO KINGS" کا جملہ لکھا گیا تھا۔ سوئٹزرلینڈ کی عوام نے اس اقدام کے ذریعے نیز امریکی صدر کے خلاف احتجاجی ریلی نکال کر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اہم پیغام دیا تھا۔ یہ پیغام دراصل یہ تھا کہ وہ ٹرمپ کو اپنے ملک میں خوش آمدید نہیں کہتے اور اس کی بنیادی وجہ بھی امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ ہے جس پر یورپی عوام بہت زیادہ برہم اور ناراض ہے۔ بہر حال، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیوس سربراہی اجلاس میں تقریر کا آغاز کیا تو دنیا نے ٹرمپ کے نئے چہرے کی نقاب کشائی کا مشاہدہ کیا۔ ایسا چہرہ جو سراسر فرعونیت اور غرور پر مبنی تھا اور دنیا نے اس سے پہلے ٹرمپ میں اس حد تک تکبر کا مشاہدہ نہیں کیا تھا۔
امریکی صدر نے سوئٹزرلینڈ کے عوام اور حکومت کی توہین کی اور ان کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا۔ اسی طرح اس نے ڈنمارک کی عوام کو نمک حرام قرار دیا اور پورے یورپ کی تذلیل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ٹرمپ نے تمام یورپی عوام اور حکمرانوں کو یہ طعنہ بھی دیا کہ اگر امریکہ دوسری جنگ عظیم میں ان کی مدد نہ کرتا تو وہ اس وقت جرمنی یا جاپانی زبان میں بات کر رہے ہوتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حتی کینیڈا کو بھی نہیں بخشا اور کینیڈا کی عوام اور حکومت کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو کینیڈا نام کی کوئی ریاست بھی وجود نہ رکھتی۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں گرین لینڈ کے مسئلے کا بھی ذکر کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ "ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد گرین لینڈ، ڈنمارک کو واپس دے دیا تھا۔"
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا: "ہم کس قدر احمق تھے جو ہم نے ایسا کیا، لیکن ہم نے یہ کر دکھایا۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ ڈنمارک والے کتنے نمک حرام ہیں؟" امریکی صدر نے گرین لینڈ کے بارے میں یورپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "آپ کے پاس اختیار ہے، آپ "ہاں" کہہ سکتے ہیں اور اس پر ہم آپ کے انتہائی شکرگزار ہوں گے۔ یا آپ "نہیں" کہہ سکتے ہیں اور ہم اسے ہمیشہ کے لیے یاد رکھیں گے۔" اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے نے کینیڈا کی طرف اشارہ کیا اور کہا: "اگر امریکہ نہ ہوتا تو کینیڈا اور کینیڈین نام کی کوئی چیز بھی نہ ہوتی، کینیڈین وزیراعظم کو چاہیے کہ جب وہ دوبارہ امریکہ کے بارے میں بات کرنا چاہیں تو اس بات کو یاد رکھیں۔" اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یورپی حکام کو اپنی فرعونیت کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
ٹرمپ نے یورپی حکام اور عوام کو طرح طرح کے طعنے دیے اور ان کی بھرپور انداز میں سرزنش بھی کی۔ ٹرمپ نے یہ دعوی بھی کہ امریکہ نے پوری دنیا کو سنبھال رکھا ہے اور اگر امریکہ نہ چاہے تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ امریکی صدر نے حتی میزبان ملک سوئٹزرلینڈ کی بھی تذلیل کی اور اسے بھی دھمکیاں دینے سے گریز نہیں کیا۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں سوئٹزرلینڈ کے بارے میں کہا: "ہمارے بغیر سوئٹزرلینڈ بھی سوئٹزرلینڈ نہیں ہے، وہ تمام ممالک جن کے نمائندے ڈیوس سربراہی اجلاس میں موجود ہیں، امریکہ کے بغیر ان کا ملک پہلے جیسا ملک باقی نہیں رہے گا۔ میں حتی یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ میں سوئٹزرلینڈ پر 70 فیصد ٹیکس عائد کرتا ہوں تاکہ اس سے بہت زیادہ پیسہ کما سکوں لیکن ایسی صورت میں سوئٹزرلینڈ شاید مالی طور پر تباہ ہو جاتا۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے اپنی تقریر میں عوام اور حکومت سوئٹزرلینڈ کے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر نے اگر امریکہ نہ یورپی حکام میں بات کر گرین لینڈ اجلاس میں کو مخاطب کی جانب لینڈ کے کے خلاف کی عوام اور اس تھا کہ کے بعد کی اور
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو