یوسف رضا گیلانی، کمبوڈین کنگ ملاقات، دفاع، معیشت ودیگرامور پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پنوم پن:(ویب ڈیسک) چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کمبوڈیا کے بادشاہ نوردوم سیہامونی سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور کمبوڈیا کے دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارتکاری کے فروغ اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین سینیٹ نے کمبوڈیا کی قیادت اور عوام کو ترقی، استحکام اور قومی ہم آہنگی پر مبارکباد دی۔ ملاقات کے دوران پارلیمانی تعاون، تجارتی روابط اور علاقائی رابطہ کاری کو مزید وسعت دینے پر زور دیا گیا۔
سید یوسف رضا گیلانی نے 2016 کے پاک کمبوڈیا پارلیمانی معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں کمبوڈیا کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔
ملاقات میں پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان دفاع، معیشت اور ماحولیاتی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے گندھارا تہذیب سے جڑے بدھ مت ورثے کے فروغ پر اتفاق کیا۔
چیئرمین سینیٹ نے جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ قریبی تعلقات بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کمبوڈیا خطے میں امن، استحکام اور کثیرالجہتی تعاون کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔