31 جنوری کو ڈی سی نوشکی اور انکے اہلخانہ کو یرغمال بنایا گیا، اسسٹنٹ کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کوئٹہ:
اسسٹنٹ کمشنر نوشکی ماریہ شمعون نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ 31 جنوری کو فتنہ الہندوستان نے ہمارے گھروں کا محاصرہ کر کے ڈپٹی کمشنر نوشکی محمد حسین اور انکے اہلخانہ کو یرغمال بناکر ہمارے حوصلے پست کرنے کی مذموم کوشش کی۔
ماریہ شمعون نے کہا کہ 31 جنوری کو بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے غیرمتزلزل عزم نے بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے عزائم کو خاک میں ملادیا، دہشتگردوں نے کوشش کی کہ ہم نوشکی کے عوام کی خدمت نہ کرسکیں مگرانہیں شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، پاک فوج اورایف سی کی شکرگزار ہوں کہ جن کی بروقت اور موثرکارروائی نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔
انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں پاک فوج مسلسل ہمارے شانہ بشانہ رہی اور ہمیں بحفاظت ہمارے گھروں تک پہنچایا، میں اور میری فیملی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کورکمانڈر کوئٹہ اور آئی جی ایف سی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
ماریہ شمعون نے کہا کہ نوشکی سمیت بلوچستان کے تمام عوام پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم ہر قسم کے حالات میں عوام کی خدمت کرتے رہیں گے، دشمن کبھی ہمارے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔