مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو 2031 تک سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، وزیر صحت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے، تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں ہوتی۔ مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو 2031 تک سالانہ لاگت 1.2ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جو قومی معیشت پر ایک بڑا بوجھ ہوگا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ ہے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، یہاں ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، پاکستان میں حکومت شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں کی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان یہ ویکسین عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کرتی ہے، جس پر سالانہ تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر لاگت آتی ہے۔ ویکسین پر آنے والی لاگت کا 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار ادا کرتے ہیں جبکہ 51 فیصد حکومت خود برداشت کرتی ہے جس کے باعث حکومت پر مالی بوجھ نسبتاً کم رہتا ہے۔
مصطیٰ کمال نے خبردار کیا کہ سال 2031 کے بعد انٹر نیشنل پارٹنرز کی امداد ختم ہو جائے گی، مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو 2031 تک سالانہ لاگت 1.
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران ویکسین پاکستان آنا رک گئی تھی، ہم گاوی کے ذریعے ویکسین منگواتے ہیں جو بھارت سے آتی تھی۔ مستقبل قریب میں پاکستان اس قابل ہوگا کہ خود ویکسین تیار کرے گا۔ سعودی عرب 10 سال سے ویکسین پر کام کر رہا ہے اور انڈونیشیا سالانہ دو ملین ڈوز بنا رہی ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نیوکلیئر پاور ہیں، ہم نے جے ایف 17 بنائے تو ہم ویکسین بھی بنا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویکسین تیار جائے گی
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔