2025 میں نیب نے 6کھرب روپے سے زائد کی ریکوری کی، نیب حکام کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران نیب نے 6 کھرب روپے سے زائد کی ریکوری کی ہے۔
ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے نیب کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کوہستان اسکینڈل کی مالیت 40 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جس میں سے اب تک 6 ارب روپے کی ریکوری کی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق اس اسکینڈل میں رقوم دیواروں اور پینٹ کے ڈبوں میں چھپا کر رکھی گئی تھیں۔
ڈی جی آپریشنز نیب نے بتایا کہ کوہستان اسکینڈل میں مجموعی طور پر 26 ارب روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے ہراساں کرنے کے تاثر کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد بیوروکریسی اب آزادانہ طور پر فیصلے کر رہی ہے، جبکہ آئندہ اگر کوئی جھوٹا الزام لگائے گا تو الزام عائد کرنے والے کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ڈی جی آپریشنز کے مطابق اسی وجہ سے موصول ہونے والی شکایات پر شناخت کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بزنس مین، ارکانِ پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کے لیے خصوصی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اور بعض شکایات متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کر دی جاتی ہیں۔
ڈی جی آپریشنز نیب عبدالمجید اولکھ نے کہا کہ محض شکایت کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکانِ پارلیمنٹ سے متعلق شکایات کے لیے اسمبلی اسپیکرز کے ماتحت سہولت سیلز قائم کیے گئے ہیں، جہاں شفافیت کے لیے ابتدائی جواب اسپیکر کی جانب سے آتا ہے، تاہم نیب اس جواب کو حتمی ماننے کا پابند نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔