25 سال بعد بسنت کی رونق، ’ایسے لگ رہا ہے اپنے بچپن میں لوٹ آیا ہوں‘
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
لاہور میں 25 سال بعد حکومت نے ثقافتی تہوار بسنت منانے کی اجازت دے دی ہے اور بسنت کے دن قریب آنے کے ساتھ تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ شہر کے مختلف بازاروں میں پتنگ اور ڈور کے خریداروں کی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے اور دکاندار من پسند نرخ وصول کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی صارفین میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ پرویز سندھیلا نے لکھا کہ یورپ سے بسنت منانے لاہور پہنچ چکا ہوں، ایسے لگ رہا ہے کہ اپنے بچپن میں لوٹ آیا ہوں۔
یورپ سے بسنت منانے لاہور پہنچ چکا ہوں،ایسے لگ رہا ہے کہ اپنے بچپن میں لوٹ آیا ہوں pic.
— Pervaiz Sandhila (@chsandhilaa) February 2, 2026
میاں جنید نے لکھا کہ لاہور میں بسنت کا جوش دیدنی ہے۔ نئی نسل ہو یا پرانے لاہوری، سب پتنگ، گڈے اور ڈور کے رنگوں میں ڈوبے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت نہ صرف ہماری ثقافت کی پہچان ہے بلکہ روزگار، سیاحت اور شہر کی رونق بھی بڑھاتی ہے۔
لاہور میں بسنت کا جوش دیدنی ہے!
نئی نسل ہو یا پرانے لاہوری، سب پتنگ، گڈے اور ڈور کے رنگوں میں ڈوبے ہیں۔ بسنت نہ صرف ہماری ثقافت کی پہچان ہے بلکہ روزگار، سیاحت اور شہر کی رونق بھی بڑھاتی ہے۔ pic.twitter.com/bYBwssufpi
— Mian junaid (@jmian1090) February 3, 2026
مزمل نامی صارف کا کہنا تھا کہ چاہے لاہور کے شاپنگ مالز ہوں یا بازار یا سڑکیں، بسنت کا رنگ ہر جگہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت کی آمد نے ہر منظر بدل دیا ہے وہی پیلے ملبوسات، وہی چھتوں کا شور اور وہی لاہور کی زندہ دلی۔
چاہے لاہور کے مالز ہوں یا بازار یا سڑکیں، بسنت کا رنگ ہر جگہ سر چڑھ کر بول رہا ہے بسنت کی آمد نے ہر منظر بدل دیا ہے وہی پیلے ملبوسات، وہی چھتوں کا شور اور وہی لاہور کی زندہ دلی????❤️ pic.twitter.com/WxgSjTjtUX
— Muzamil (@muzamil_45) February 4, 2026
شبنم حسنین لکھتی ہیں کہ اس وقت ہر جگہ، ہر گاڑی،ہر آفس میں ایک ہی بات ہورہی ہے کہ ’بسنت پر لاہور جا رہے ہو‘؟
اسوقت ہر جگہ،ہر گاڑی،ہر آفس میں ایک ہی بات ہورہی ہے
بسنت پر لاہور جارہے ہو????
???????? pic.twitter.com/gI4hKszO5R
— شبنم حسنین (@ShabnamHusnain1) February 3, 2026
صحر انورد کا کہنا تھا کہ میں نے صرف سنا تھا کہ لاہور میں بسنت کس شدت سے منائی جاتی ہے مگر آج خود دیکھا تو واقعی یہ ایک جنون کی مانند ہے لاہوریوں کا جوش دیدنی ہے، پولیس اہلکار بھی کہہ رہے ہیں کہ اتنا رش موچی گیٹ میں کبھی نہیں دیکھا گیا جتنا آج یہاں ہے۔
میں نے صرف سنا ہی تھا کہ لاہور میں جو بسنت ہے وہ کریز کی طرح، جنون کی طرح منائی جاتی ہے لاہوریوں کا حال، دیکھیں پاگل ہوئے پڑے ہیں
لاہور موچی گیٹ ہے اور آپ رش دیکھتے جائیں بس عوام کا اور عوام کا جنون دیکھتے جائیں بس یہاں پہ۔ ابھی یہاں پہ پولیس والے کچھ دوست کھڑے یہ بتا رہے ہیں کہ… pic.twitter.com/1Tu0jrtBoJ
— صحرانورد (@Aadiiroy2) February 3, 2026
کئی صارفین نے مطالبہ کیا کہ لاہور کے بعد پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی باری باری بسنت کی اجازت دیں تاکہ وہ شہر بھی ایسی خوشیاں دیکھ سکیں، ایک نسل بڑی ہو گئی یہ رونق دیکھے بغیر۔
لاہور کے بعد پنجاب کے دیگر شہروں گجرانوالہ ، گجرات ، فیصل آباد ملتان اور پنڈی میں بھی باری باری بسنت کی اجازت دیں وہ شہر بھی ایسی خوشیاں دیکھ سکیں ایک نسل بڑی ہو گئ یہ رونق دیکھے بغیر pic.twitter.com/5VOI6iKEmY
— RAShahzaddk (@RShahzaddk) February 4, 2026
واضح رہے کہ حکومت نے 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو پتنگ بازی کی اجازت دی ہے تاہم اس کے لیے سخت قواعد و ضوابط بھی مرتب کیے گئے ہیں تاکہ احتیاطی تدابیر کو یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت لاہور میں بسنت مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لاہور میں بسنت مریم نواز لاہور میں بسنت کا کہنا تھا کہ ہے لاہور لاہور کے کی اجازت کہ لاہور بسنت کی بسنت کا رہا ہے ہر جگہ
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔