فلمسازروہت شیٹی کے گھر پر فائرنگ، ذمہ داری بشنوئی گینگ نے قبول کرلی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ممبئی (ویب ڈیسک)بالی ووڈ کے معروف فلم ساز روہت شیٹی کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والی فائرنگ کی ذمہ داری لارنس بشنوئی گینگ نے قبول کر لی۔
بھارتی میڈیا کےمطابق ممبئی کے علاقے جوہو میں واقع روہت شیٹی کے گھر کے باہر نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کی، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کر لیا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ایک مسلح شخص نےفلم سازکی رہائش گاہ کی عمارت کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد فائرکیے،واقعے کے دوران 7.
تحقیقاتی حکام کےمطابق ممبئی کرائم برانچ کے اینٹی ایکسٹورشن سیل نے پونے سے 4 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن پر مبینہ طورپرشوٹر کی مددکرنے اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل فراہم کرنے کا الزام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔