بھارت سےسورج ناراض، مواصلاتی نظام متاثر ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
سورج پر شدید سرگرمی کے ایک نئے سلسلے کے باعث بھارت کو طاقتور ریڈیو بلیک آؤٹ کے خطرے کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے چاند کے بعد سورج کے راز کھوجنے کی ٹھان لی، آدتیا ایل ون لانچ کرنے کا اعلان
بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) نے خبردار کیا ہے کہ طاقتور شمسی شعلوں کے نتیجے میں مواصلاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے جس کے پیشِ نظر تمام سیٹلائٹس کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔
اسرو کے مطابق سورج سے اٹھنے والے شدید شمسی طوفان زمین کی سمت آنے کی صورت میں سیٹلائٹس، ٹی وی سگنلز، ریڈار سسٹمز اور بجلی کے گرڈ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ادارے نے تصدیق کی ہے کہ بھارت کے 50 سے زائد فعال سیٹلائٹس کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی شمسی سرگرمی مواصلات، نیویگیشن اور سیٹلائٹ آلات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسرو کے ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اینڈ کمانڈ نیٹ ورک کے ڈائریکٹر انیل کمار نے بتایا کہ ریڈیو بلیک آؤٹ کے امکانات واضح ہیں اور کسی بھی ممکنہ مواصلاتی خلل سے فوری طور پر نمٹا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام گراؤنڈ اسٹیشنز کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور ہنگامی منصوبے پہلے ہی فعال ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال سورج پر موجود ایک انتہائی متحرک مقناطیسی خطے ایکٹو ریجن 14366 کے باعث پیدا ہوئی جہاں چند دنوں کے دوران 4 انتہائی طاقتور شمسی شعلے خارج ہوئے جن میں X8.
ناسا کے مطابق یہ شعلے یکم اور 2 فروری کے درمیان اپنے عروج پر پہنچے اور اکتوبر 2024 کے بعد سب سے روشن شمسی شعلہ ریکارڈ کیا گیا۔
شمسی سائنس دان پروفیسر دیبیندو نندی کے مطابق سورج کا یہ رویہ غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ مذکورہ مقناطیسی خطہ غیر معمولی طور پر سرگرم ہے اور مسلسل شمسی طوفان خارج کر رہا ہے۔
مزید پڑھیے: بھارت کو بڑا دھچکا، خلا میں سیٹلائٹ بھیجنے کا بڑا مشن ناکام، 16 سیٹلائٹس ضائع
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی سائنس دانوں نے پہلے ہی صورتحال کا اندازہ لگا کر اسپیس ویڈر الرٹس جاری کر دیے تھے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ تاحال زمین کو براہ راست نشانہ بنانے والا کوئی انتہائی طاقتور شمسی پلازما بادل سامنے نہیں آیا تاہم چونکہ متحرک خطہ سورج اور زمین کے درمیان لائن کے قریب ہے اس لیے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس صورتحال میں بھارت کا پہلا شمسی مشن ادتیہ ایل-ون کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور ایل-ون لاگرانج پوائنٹ پر موجود ہے۔ یہ مشن سورج کی سرگرمیوں پر حقیقی وقت میں نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے ڈیٹا کی مدد سے بروقت وارننگز جاری کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت کا ’ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ‘ کو خلا میں داخل کرنے کا مشن ناکام
بھارتی سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ اس وقت کسی بڑے تباہ کن نقصان کا خطرہ نہیں تاہم سورج کی مسلسل غیر یقینی سرگرمی کے باعث بھارت سمیت دنیا بھر میں ہائی الرٹ برقرار رکھا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بھارت کو خطرہ سورج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بھارت کو خطرہ کے مطابق رہا ہے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس