کوئٹہ، سرکاری ملازمین کا احتجاج ختم، حکومت کا گرفتار ملازمین کو رہا کرنیکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
سرکاری ملازمین نے خیرسگالی کے پیغام کے طور پر صوبہ بھر میں احتجاج ختم کرنیکا اعلان کیا ہے، جبکہ حکومت نے تمام گرفتار ملازمین کو رہا کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان میں احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین نے صوبے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خیرسگالی کے پیغام کے طور پر صوبہ بھر میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ حکومت نے تمام گرفتار ملازمین کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج کوئٹہ میں آل پارٹیز اور حکومتی وفود کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مذکورہ فیصلے ہوئے ہیں۔ آل پارٹیز کے وفد میں وفد میں اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصر اللہ خان زیرے، پاکستان تحریک انصاف کے سلام آغا، ایچ ڈی پی کے رہنماء عصمت یاری، اے این پی کے رہنماء ثنا اللہ کاکڑ، نیشنل پارٹی کے میر عنایت بزدار، ملازمین کی طرف سے اسماعیل کاسی اور این ڈی ایم کے عنایت شاہ شامل تھے۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے مجاز کمیٹی کے اراکین میں صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، صوبائی وزیر داخلہ علی مدد جتک، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء سید اقبال شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون اور اسپیشل سیکرٹری خزانہ عارف خان اچکزئی شامل تھے۔ ملاقات میں وفد نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا اور حکومت نے گرفتار ملازمین کی رہائی کا فیصلہ کیا، جبکہ 12 فروری کو آل پارٹیز کے اکابرین اور حکومتی کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔ جس میں التواء شدہ تمام مسائل کے حل کے لئے حکمت عملی طے کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گرفتار ملازمین کا فیصلہ پارٹی کے کیا ہے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔