ایک سال میں حکومتی 35بلز کے مقابلے میں 43نجی بلوں کو منظور کیا گیا،پرائیوٹ ممبرز حاوی رہے
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ایک سال میں حکومتی 35بلز کے مقابلے میں 43نجی بلوں کو منظور کیا گیا،پرائیوٹ ممبرز حاوی رہے parliament house Islamabad WhatsAppFacebookTwitter 0 4 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )ایک سال میں حکومتی قانون سازی کے مقابلے میں نجی بلز کی اکثریت رہی۔ذرائع کے مطابق حکومتی 35بلز کے مقابلے میں سالانہ 43نجی بل منظور کیے گئے، ایوان سے گزشتہ ایک سال میں 35 قوانین کی منظور لی گئی۔
حکومت کے مقابلے میں نجی ارکان کے 43بلز ایوان سے منظور ہوئے ، پہلی بار حکومتی قانون سازی پر پرائیوٹ ممبرز حاوی رہے، نجی ارکان کے بیشتر بلز حکومتی حمایت سے پاس ہوئے۔دوسری جانب نجی ارکان کے بیشتر بلز بنیادی حقوق اور تعلیمی اداروں کے قیام سے متعلق تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں ،امید ہے کامیاب ہوں گے،ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں ،امید ہے کامیاب ہوں گے،ٹرمپ امن کیلئے نواز شریف جیسے لیڈر کی ضرورت،ایرانی سفیر،صدر ن لیگ سے ملاقات مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، وزیر صحت پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ ختم کرنے سے متعلق اسٹیٹ بینک کی وضاحت نواز شریف کو پاکستان کی حفاظت کرنے والا ستون سمجھتے ہیں،ایرانی سفیر ایپسٹین اسکینڈل، تازہ دستاویز سامنے آنے پر اینڈریوکو برطانیہ کے شاہی لاج سے نکال دیاگیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے مقابلے میں ایک سال میں
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔