پاکستان اور قازقستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کا مشترکہ اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
تصویر سوشل میڈیا۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ اسلام آباد سے دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق قازقستان کے صدر نے 23 برس بعد پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، دورے کو پاک قازق تعلقات میں تاریخی سنگ میل قرار دیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور قازقستان نے سیاسی، دفاعی اور تجارتی تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قازقستان کے ساتھ تجارتی حجم 2 سال میں1 ارب ڈالر تک لے جانے کےلیے پرعزم ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک نے یو این چارٹر، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں نے نائب وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ کی سطح پر 2 سالہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور آپس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کیا اور اس کے لیے مشترکہ کمیشن اور بزنس کونسل کے کردار کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے منشیات اسمگلنگ اور سائبر جرائم کے خلاف بھی تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور قازقستان نے مشترکہ فوجی مشقوں، تربیت اور دفاعی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ قازقستان نے سلامتی کونسل میں پاکستان کے کردار اور کثیرالجہتی سفارتکاری کی کوششوں کو سراہا۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے ٹرانس افغان ریلوے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وسطی اور جنوبی ایشیا کو ملانے والے کثیرالجہتی ٹرانسپورٹ کوریڈورز پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
پاکستان اور قازقستان نے براہ راست فضائی پروازیں بحال کرنے کے امکان پر غور کا فیصلہ کیا اور تعلیم، سائنس اور آئی ٹی کے شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے طلبہ و اساتذہ کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قازق طلبا کو پاکستان آنے کی پیشکش کی۔ ثقافت، میڈیا، کھیل اور سیاحت کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط اور عوامی روابط بڑھانے پر زور دیا گیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر قاسم جومارت توکایووف نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
پاکستان اور قازقستان نے گلیشیئرز کے تحفظ اور ماحولیاتی تعاون کو اسٹریٹجک شراکت داری کا اہم ستون قرار دیا۔ دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت پر زور دیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور افغانستان میں استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ قازقستان کے صدر نے پاکستانی قیادت اور عوام کی جانب سے گرمجوش مہمان نوازی پر اظہار تشکر کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق قازقستان کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو قازقستان کے دورے کی دعوت دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ کے مطابق دونوں پاکستان اور قازقستان نے وزیراعظم شہباز شریف دونوں ممالک نے پر اتفاق کیا قازقستان کے شراکت داری کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔