صدر مملکت نے قازقستان کے صدر کو نشان پاکستان سے نواز دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آ باد:
صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان کے دورے پر موجود قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کو نشان پاکستان سے نواز دیا۔
ایوان صدر میں صدر آمد پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کا استقبال ہوا اور ان کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی جہاں صدر مملکت نے قازقستان کے صدر کو نشان پاکستان سے نوازا، اس موقع پر وزیر اعظم شریف بھی موجود تھے۔
قبل ازیں صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورت حال اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف آگے بڑھانے کے لیے قازقستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔
صدر مملکت نے سیاسی، اقتصادی اور علاقائی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کے تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور علاقائی خوش حالی کے مشترکہ وژن پر مبنی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے علاقائی روابط نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ علاقائی چیلنجز کا مقابلہ محاذ آرائی کے بجائے تعاون کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
اس موقع پر قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ قازقستان پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کے فروغ، علاقائی روابط کے استحکام اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آصف علی زرداری نے صدر مملکت نے پاکستان کے نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند