ملکی حالات خراب ہوتے جارہے ہیں، پنجاب میں سول مارشل لا نافذ ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پشاور:
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پنجاب میں سول مارشل لا ہے، وہاں کے حکمران آمروں کی گود سے جنے ہیں۔
نشتر ہال میں یوتھ کنونشن کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں ۔ سیاسی اور اداروں کے حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی اس ملک کی امید ہیں بڑا انسان وہ ہے جس کا خواب بڑا ہو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وزیر اعلیٰ بنوں وزیر اعلیٰ تو بن گیا لیکن آگے بڑھنا بڑا خواب ہے ۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب میں سول مارشل لا ہے۔ وہاں کے حکمران آمروں کی گود سے جنے ہیں ۔ پنجاب میں پی ٹی آئی ایم این ایز سے اسلحہ و گاڑیاں ٹپمرڈ کی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ کے پی کے نے کہا کہ بشریٰ بی بی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، انہیں بھی قید کیا ہوا ہے۔ بانی کی بہنوں پر زہریلا پانی پھینکا جاتا ہے ۔ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو بڑے طیارے میں بیرون ملک لے کر جایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا کو ضم کیا گیا لیکن مالی طور پر حصہ نہیں دیا جارہا ۔ آئی ایم ایف نے چارج شیٹ بنائی ، 5 ہزار ارب روپے وزرا ہڑپ کر گئے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تیراہ کے لوگوں کو زبردستی مجبور کیا گیا ہے۔ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ، ملٹری آپریشن سے دہشتگردی کم نہیں ہوتی ، بڑھتی ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذہبی و سیاسی جماعتوں کو بٹھا کر پالیسی بنانا ہوگی ۔
انہوں نے کہا کہ وفاق ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہا ہے۔ جو ان کے ارادے ہیں شاید میں نہ رہوں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ آواز اٹھانا ،جنازے اٹھانے سے بہتر ہیں ۔ اس بار ہم بند کمروں کے فیصلے مسلط نہیں ہونے دیں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سہیل آفریدی نے کہا وزیر اعلی نے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔