صحافیوں کے خلاف جھوٹی اوربدنیتی پر مبنی ایف آئی آر کی مذمت کرتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن حیدرآباد کے جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ اسرار حسین چانگ نے پولیس کی جانب سے صحافیوں کے خلاف درج کی گئی مبینہ جھوٹی اور بدنیتی پر مبنی ایف آئی آر کی شدید مذمت کی ہے۔ جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے باہر صحافیوں سے سوال کرنا ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے جسے دہشت گردی جیسے سنگین قوانین کے تحت دبایا جاتا ہے جو کہ آئین، قانون اور آزادی اظہار پر براہ راست حملہ ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے جاری کردہ بیان میں پولیس حکام کی جانب سے سینئر صحافیوں کے خلاف درج ایف آئی آر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سراسر غیر قانونی من گھڑت اور انتقامی کارروائی ہے جس کا مقصد حق کی آواز کو دبانا ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ اسرار چانگ نے مزید کہا کہ پولیس اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے صحافیوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ نادر جمالی نامی شہری کے مبینہ حراستی قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کو احتساب کے لیے پیش کرنے کے بجائے متعلقہ ایس ایچ او خلیل مسان اور ایس ایس پی دادو نے صحافیوں کے خلاف کارروائی کرکے قانون کی حکمرانی کا مذاق اڑایا ہے۔ ہائیکورٹ بار کے مطابق صحافیوں یاسر شورو اور شعیب تھہیم پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرنا انتہائی افسوسناک اور آزادی صحافت کے خلاف کھلی سازش ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف پولیس کے اداروں پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن صحافیوں کے خلاف کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔