نامور اداکارہ نے شوہر کی پہلی بیوی کیساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں کھل کر بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
سینئر پاکستانی اداکارہ اسما عباس نے اپنے شوہر کی پہلی بیوی کیساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں کھل کر بتادیا۔
پاکستان ٹی وی انڈسٹری کی اداکارہ اسما عباس ڈمپخت، جی ٹی روڈ، اکبری اصغری، خُمار، ڈلڈل، رانجھا رانجھا کردی، چپکے چپکے، چوہدری اینڈ سنز، رد، من جُوگی، بیبی باجی کی بہوائیں اور دستک جیسے ہٹ ڈراموں میں اپنے شاندار اداکاری کے لیے جانی جاتی ہیں۔
وہ پنجابی کامیڈی شو پنجابی کڑیاں کی بھی میزبان ہیں، سینئر اداکارہ ڈیجیٹل میڈیا پر بھی موجود ہیں، جہاں وہ مختلف موضوعات پر کھل کر گفتگو کرتی ہیں۔
حال ہی میں اپنی بھانجی نرمان انصاری کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران اسما عباس نے اپنے شوہر کی پہلی بیوی کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں کھل کر بات کی۔
اسما عباس کا کہنا تھا کہ میں نے صرف یہ سوچا کہ وہ بھی ایک عورت ہے جیسے میں ہوں، اور مجھے اسے وہ عزت دینی چاہیے جو اس کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ جانتی تھی کہ میں اس سے چھوٹی اور زیادہ خوبصورت ہوں اور ان کا تعلق 12 سال پرانا تھا، لیکن اگر میری جگہ وہ ہوتی تو میں بھی وہی حالات محسوس کر رہی ہوتی۔ لہٰذا بہتر ہے کہ اس تعلق کو مثبت بنایا جائے بجائے اس کے کہ اسے زہریلا تعلق بنایا جائے۔
سینئر اداکارہ نے انکشاف کیا کہ عباس ہماری مضبوط دوستی سے جلتا تھا، ہم ایک جیسے کپڑے پہنتے تھے، میں اسے ساری رقم دیتی تھی، جس میں سے وہ مجھے جیب خرچ دیتی تھی کیوں کہ باورچی خانہ اس کے زیر انتظام تھا۔
انہوں نے کہا کہ میں ہر کام میں اس کے پیچھے چلتی تھی، ہم 12 سال ایک ہی گھر میں رہے اور میں اسے اگلی سیٹ پر بیٹھنے دیتی تھی لیکن وہ ہمیں جلد چھوڑ گئی۔
اسما عباس کا کہنا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ عباس کی زندگی آسانی سے چلنی تھی، اس لیے اللہ نے اسے پہلی بیوی کے انتقال سے پہلے ایک اور عورت دی، اور اس کے بچوں کی بھی پیدائش ہوئی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پہلی بیوی کھل کر
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔