اپوزیشن سے بات کرنے کیلیے تیار ہیں‘ طارق فضل چودھری
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260205-01-2
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک ) وفاقی وزیر طارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جن متنازع معاملات پر بات کرتی ہے وہ مل بیٹھ کر طے ہوسکتے ہیں، ہم ان پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔وفاقی وزیرطارق فضل چودھری نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کو انگیج کرے، شہبازشریف کی پالیسی ہے کہ اپوزیشن کو انگیج کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات پر کابینہ کو اعتماد میں لیا۔طارق فضل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے وزیرخزانہ اور وزیرمنصوبہ بندی کو کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے جائز مطالبات کو پورا کیا جائے۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن لیڈر کی وزیراعظم سے ملاقات ہوگی اس میں مرکزی کردار رانا ثنا نے ادا کیا ہے، وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں جاکر ان سے ملاقات کریں گے ۔وفاقی وزیرطارق فضل نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں سیاسی اختلافات ہیں، اپوزیشن جن متنازع معاملات پربات کرتی ہے وہ مل بیٹھ کر طے ہوسکتے ہیں ہم ان پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ اپوزیشن
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔