اپوزیشن سے بات کرنے کیلیے تیار ہیں‘ طارق فضل چودھری
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260205-01-2
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک ) وفاقی وزیر طارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جن متنازع معاملات پر بات کرتی ہے وہ مل بیٹھ کر طے ہوسکتے ہیں، ہم ان پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔وفاقی وزیرطارق فضل چودھری نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کو انگیج کرے، شہبازشریف کی پالیسی ہے کہ اپوزیشن کو انگیج کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات پر کابینہ کو اعتماد میں لیا۔طارق فضل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے وزیرخزانہ اور وزیرمنصوبہ بندی کو کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے جائز مطالبات کو پورا کیا جائے۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن لیڈر کی وزیراعظم سے ملاقات ہوگی اس میں مرکزی کردار رانا ثنا نے ادا کیا ہے، وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں جاکر ان سے ملاقات کریں گے ۔وفاقی وزیرطارق فضل نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں سیاسی اختلافات ہیں، اپوزیشن جن متنازع معاملات پربات کرتی ہے وہ مل بیٹھ کر طے ہوسکتے ہیں ہم ان پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ اپوزیشن
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔