بساط پھر بچھ گئی، ایران، امریکا کے درمیان کل مسقط میں مذاکرات ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
تہران:
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کے التواء سے متعلق گردش کرنے والی تمام افواہیں دم توڑ گئیں جب دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر تصدیق کر دی کہ مذاکرات جمعے کی صبح 10 بجے مسقط میں ہی ہوں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ جوہری امور پر بات چیت طے شدہ وقت کے مطابق عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوگی۔
Nuclear talks with the United States are scheduled to be held in Muscat on about 10 am Friday.
I'm grateful to our Omani brothers for making all necessary arrangements. — Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) February 4, 2026
انہوں نے مذاکرات کے انعقاد کے لیے سہولیات فراہم کرنے پر عمان کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا جس سے مسقط کے سفارتی کردار کو ایک بار پھر عالمی اہمیت حاصل ہو گئی۔
مزید پڑھیںامریکا ایران کیساتھ مذاکرات کیلیے تیار ہوگیا؛ کڑی شرائط رکھ دیں
ایران مذاکرات پر آمادہ ہوگیا، امریکا کے ایرانی ڈرون مار گرانے پر کشیدگی برقرار
ایران اور امریکا کے درمیان مذکرات میں شرکت کیلئے پاکستان کو بھی دعوت
دوسری جانب دو سینیئر امریکی عہدیداروں نے بھی امریکی میڈیا سے گفتگو میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات عمان میں ہی ہوں گے یوں قیاس آرائیوں پر پردہ ہمیشہ کے لیے گر گیا۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات جمعے کو ترکیہ کے شہر استنبول میں شیڈول تھے تاہم ایران کی جانب سے اچانک مقام کی تبدیلی کا مطالبہ سامنے آیا جس کے بعد مذاکرات کو عمان منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ایران نے نہ صرف مقام کی تبدیلی پر زور دیا بلکہ یہ شرط بھی رکھی کہ مذاکرات میں کسی علاقائی شراکت دار کو شامل نہ کیا جائے اور بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رہے۔
تاہم ان مطالبات کو امریکا نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا یا نہیں اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکا کے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔