پاکستان میں نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ کب جاری ہونگے؟ گورنراسٹیٹ بینک نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہےکہ نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک بورڈ نے منظوری کے بعد وزارت خزانہ کو بجھوا دیا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق آگاہ کیا۔انہوں نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک بورڈ نے منظوری کے بعد وزارت خزانہ کو بجھوا دیا ہے، حکومت کی منظوری کے بعد نئے کرنسی نوٹ جاری کیے جائیں گے جب کہ 5 ہزار روپے کا نوٹ ختم کرنے کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔اس دوران سینٹر عبدالقادر کا کہنا تھا کہ لوگ تین چار سال کا سپر ٹیکس کیسے دیں گے، اس طرح تو آپ لوگوں کو ملک سے نکال رہے ہیں، ایف بی آر جس طرح ہراساں کر رہا ہے وہ درست نہیں ہے، لوگوں سے فوری ٹیکس ادائیگی کی بجائے اس ٹیکس کی وصولی دو تین سال میں کی جائے۔ققاجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا آئینی عدالت نے تو کہہ دیا کہ سپر ٹیکس پارلیمان کا اختیار ہے لیکن اس سے لوگوں پر دباؤ اور بوجھ بڑھا ہے، ایک ہی کلاس سے بار بار ٹیکس ریونیو سے اضافہ کوئی ریوینیو ماڈل نہیں ہے۔اس موقع پر چیئر مین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو کچھ کیسز می سپر ٹیکس کی اقساط بھی کر دیں گے، سپر ٹیکس کی کل وصولی 217 ارب روپے بنتی ہے، ٹیکس دہندگان کا ٹیلی فون پر پیغام بھیجنے سے ان کی تعداد میں 10 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جس پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ انہیں بھی ایف بی آر کا پیغام ملا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک سپر ٹیکس ٹیکس کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔