سیاسی محاذ پر برف پگھل گئی، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات جلد متوقع
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات طے ہے لیکن ابھی دن، وقت یا جگہ کے بارے میں حتمی بات طے نہیں ہوئی۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ شہباز شریف، محمود اچکزئی کی میزبانی پر بھی تیار ہیں، ورنہ پارلیمنٹ میں بھی ملاقات ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر 8 فروری سے پہلے ملاقات کرنے میں اپوزیشن لیڈرکی پوزیشن خراب ہوتی ہے تو ان سے بعد میں مل لیں گے۔دوسری جانب اپوزیشن رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کا اعلان کردیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں مذاکرات کی دعوت دی اور اس کے بعد اپوزیشن کی اس پر سیرحاصل گفتگو ہوئی ، ہم نے فیصلہ کیا کہ وزیراعظم کی مذاکرات کی دعوت کو غیر مشروط طور پر قبول کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔