وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات طے ہے، جگہ اور دن نہیں، رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ فیئر الیکشن کے ضابطے سیاستدانوں نے مذاکرات کی میز پر طے کرنے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ یہ طے ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی ملاقات ہوگی۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ 8 فروری کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کس دن اور جگہ پر ہوگی؟ یہ ابھی طے نہیں ہوا، محمود اچکزئی تشریف لانا چاہتے ہیں تو ان کو ویلکم کرتے ہیں۔
سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ جس دن وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں آئے اور محمود اچکزئی بھی موجود ہوئے تو ان کے ساتھ ملاقات ہوجائے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر 8 فروری سے پہلے ملاقات کرنے میں اپوزیشن لیڈر کی پوزیشن خراب ہوتی ہے تو ان سے بعد میں مل لیں گے، بتایا جائے اعتماد نہ بھی ہو تو بات چیت کو آگے بڑھانے کے سوا اور کیا چارہ ہے؟
وزیراعظم کے سیاسی مشیر نے یہ بھی استفسار کیا کہ کون ہے جو اکتوبر 2011ء سے لے کر اب تک مذاکرات کے لیے تیار نہیں؟
انہوں نے کہا کہ جب تک مذاکرات کے لیے نہیں بیٹھیں گے الیکشن رولز کیسے بنائیں گے، اگر فیئر الیکشن کے لیے ضابطے طے کرنے ہیں تو وہ سیاستدانوں نے کرنے ہیں۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ یقین سے کہتا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے لیے لازمی طور پر اتحادیوں، اپنے پارٹی لیڈر اور اسٹیبلشمنٹ کو آن بورڈ لیا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء الل اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔