امریکا کا ایران کیساتھ جوہری مذاکرات سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کیساتھ جوہری مذاکرات کا منصوبہ بکھر رہا ہے۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہم نے ان سے کہا کہ یا تو ترکیہ مذاکرات ہوں گے یا بالکل کچھ نہیں ہو گا، ہم نے مقام کی تبدیلی کی درخواست پر غور کیا، لیکن پھر اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا نے مذاکرات کی جگہ تبدیل کرنے کی ایرانی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایران کیساتھ جوہری مذاکرات سے انکار کر دیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے ترکیہ کے بجائے عمان میں مذاکرات کرانے کا مطالبہ کیا تھا ، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کیساتھ جوہری مذاکرات کا منصوبہ بکھر رہا ہے۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہم نے ان سے کہا کہ یا تو ترکیہ مذاکرات ہوں گے یا بالکل کچھ نہیں ہو گا، ہم نے مقام کی تبدیلی کی درخواست پر غور کیا، لیکن پھر اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔
قبل ازیں خبر آئی تھی کہ ایران نے مذاکرات کی جگہ تبدیل کرنے کیلئے امریکا کو رضامند کر لیا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کیلیے سامنے آنا چاہتا ہے تو وہ رواں ہفتے بھی ملنے کیلیے تیار ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ امریکا ہمیشہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور مشاورت کے لیے آمادہ رہا ہے لیکن یہ مذاکرات صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کیساتھ جوہری مذاکرات نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔